تفہیماتِ ربانیّہ — Page 112
علام کسی کا نام ہے؟ ہرگز نہیں۔کیا یہ مرکب اضافی ہے؟ پھر مرزا صاحب مراد کیسے ہوئے؟ ہر دو صورتیں غلط ہیں۔دوسرے حصہ میں تنزل کا فاعل مذکور نہیں لہذا وہ بھی جملہ نا تمام ہے۔غرض یہ دونوں الفاظ بے موقع ہیں اور ان سے اعداد نکالنامحض ایجاد گندہ ہے دیس۔حضرت مرزا صاحب نے حساب جمل سے بعض استدلال فرمائے مگر کب ؟ جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اشارہ فرمایا۔حضور فرماتے ہیں :- اس عاجز کے ساتھ اکثر یہ عادت اللہ جاری ہے کہ وہ شبانہ بعض اسرار اعداد حروف تھی میں میرے پر ظاہر کر دیتا ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۱۸۶) کیا تم میں کوئی ہے جو الہام ربانی اور تقسیم الہی کے دعوئی پر حروف تہجی سے سند لے؟ جا اے حق کے دشمن ! اپنے مرشد قاضی لدھیانوی سے دریافت کر کہ اس نے یہ نا پاک کلمات الہامی طور پر لکھے ہیں یا محض اختراع نفسی کا نتیجہ ہیں ؟ تم لوگوں میں ایک لکھو کے والا الہام کا دعوی کر کے میدان میں آیا تھا مگر جانتے ہو اس کا کیا حشر ہوا؟ خدا کے جری نے سچ فرمایا ہے سے بدگمانی نے تمہیں مجنون و اندھا کر دیا ور نہ تھے میری صداقت پر برا ہیں بیشمار اب ہم تمام ضمنی امور کے جواب سے فارغ ہوکر دوسرے اعتراض کا جواب لکھتے ہیں وباللہ التوفیق۔چونکہ ہم نے بفضل ایز دتعالیٰ فیصلہ کیا ہے کہ عشرہ کاملہ کے مصنف کے غرور اور تعلی کاسر کچلنے کے لئے ہر چھوٹے بڑے اعتراض کا جواب دیں گے اسلئے ذرا طول ہو گیا ہے آئندہ انشاء اللہ حتی الامکان اختصار مدنظر رہے گا۔(٢) "زلزلة الساعة“ پر اعتراض کا جواب منشی صاحب لکھتے ہیں :- ودم را پریل ۱۹۰۵ ء کو ایک بھاری زلزلہ پنجاب میں آیا اس سے تیسرے دن مرزا صاحب نے الہام مندرجہ عنوان ( زلزلة الساعة ) ہونا ظاہر کیا۔الہام کے الفاظ اور مرزا صاحب کی تفہیم سے یہ قیامت خیز (112)