تفہیماتِ ربانیّہ — Page 111
امر هفتم معترض پٹیالوی لکھتا ہے :- اگر ابجد کے حساب سے سند لی جانی درست ہے تو غلام قادیانی دجال ہے اور آیت مندرجہ بالا عنوان فصل ہذا کے فقرہ تَنَزَّلُ عَلَى كُلِ آفَّاكٍ أَثِيمٍ کے بھی ۱۳۰۰ اعداد ہی ہوتے ہیں۔“ ( حاشیہ عشرہ صفحہ ۳۸) الجواب - حساب ابجد سے سند لینا درست ہے، اولیاء امت سند لیتے رہے ہیں۔چنانچہ نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں :۔گویند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی تاریخ ظهور او در لفظ چراغ دین یافته و بحساب جمل عدد دے یکبز ارود وصد و شصت می شود (حج الکرامه صفحه ۳۹۴) شاہ ولی اللہ ایسے بزرگ نے حساب جمل ( حساب ابجد ) سے کام لیا اور امام موعود کے لئے لفظ ” چراغ دین کے اعداد میں پیشگوئی فرمائی۔احادیث سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔پس یہ تو طے شدہ ہے کہ حساب ابجد سے سند لینا درست ہے۔اب رہ گیا یہ سوال کہ کیا وجہ ہے کہ ہم معترض پٹیالوی کے محترمہ بیان کو درخور التفات نہیں سمجھتے ؟ سو یا د رکھنا چاہئے کہ لِكُلِّ فَنٍ رِجَالٌ ہر میدان کے شاہسوار ہوتے ہیں۔فلسفہ اور منطق سے استدلال درست ہے مگر ایک جاہل اگر قواعد منطقیہ کو استعمال کرنے کا دعویٰ کرے گا تو وہ شائستہ اعتناء نہ ہوگا اسے کہا جائے گا ھے ایاز قدر خود بشناس یہی حال تمام علوم وفنون کا ہے۔حساب جمل تو درست ہے مگر اس کی اہلیت ہر کس و ناکس کو نہیں ہو سکتی۔ہاں وہ لوگ جو تعلق باللہ رکھتے ہیں یہ اسرار و رموز ان پر کھولے جاتے ہیں۔مقطعات قرآنی کے معانی تو ضرور ہیں۔مفسرین کے ہاں آلھ کے معنے آنا الله اعْلَمُ مانے جاتے ہیں لیکن آریہ پنڈت کہا کرتے ہیں کہ کیوں اس کو اوم سے بگڑا ہوا نہ مانا جاوے۔اس کا یہی جواب ہے کہ ان غوامض کو حل کرنے کے لئے قوت قدسیہ کی ضرورت ہے۔اسی طرح حساب جمل کے صحیح استعمال کے لئے روحانیت اور تعلق الہی کی ضرورت ہے۔اگر یہ نہ ہو تو انسان منہ کے بل ٹھو کر کھاتا ہے۔چنانچہ دیکھ لیجئے کہ منکر پٹیالوی نے جو دو لفظ لکھے ہیں کیا ان میں ربط بھی ہے؟ پہلے لقب میں غلام قادیانی“ کا لفظ قابل غور ہے، کیا۔111۔