تفہیماتِ ربانیّہ — Page 733
تو تیرے تابعدار ہوتے “ (دیوان معدن الاضافات مطبوعہ بیروت صفحه ۲۸) دوسری حدیث۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ان عیسی بْنَ مَرْيَمَ عَاشَ عِشْرِيْنَ وَمِائَةَ سَنَةٍ تحقیق حضرت عیسی ایک نٹوں میں سال زندہ رہے ہیں (کنز العمال جلد ۶ صفحه ۱۲۰، حج الكرامه صفحه ۴۲۸، جلالین مجتبائی صفحہ ۵۰) گویا نه صرف حضرت عیسی کی موت کا اعلان فرمایا بلکہ ان کی عمر بھی بتادی۔احادیث نبویہ میں حضرت مسیح کے زندہ یا جسم سمیت آسمان پر ہونے کا قطعاً کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔البتہ نزول ابن مریم کا ذکر پایا جاتا ہے۔مگر ساتھ ہی یہ بھی مذکور ہے وَاِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ( صحیح البخاری) کہ وہ تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔گویا وہ امت محمد آیتہ کا فرد ہو گا۔بنی اسرائیل میں سے نہ ہوگا۔نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رؤیا کا ذکر کر کے واضح فرما دیا کہ اسرائیلی مسیح اور تھا امت محمدیہ کا موعود اور ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مسیح کے خلیہ میں فرمایا احمر جعد کہ اس کا رنگ سُرخ ہے اور بال گھونگریالے ہیں۔اور مسیح موعود کے متعلق فرمایا آدھ سبھے کہ وہ گندم گوں رنگ کا ہوگا اور اس کے بال سیدھے ہوں گے۔( صحیح بخاری جلد ۳ مطبوعہ مصر ) پس نزول ابن مریم والی احادیث سے حضرت مسیح کی جسمانی زندگی کا استدلال باطل ہے۔احادیث میں حیاست مسیح کے عدم ذکر کا اعتراف سب علماء کر رہے ہیں۔تازہ اعتراف یہ ہے کہ : حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی اس موضوع پر ارشاد فرمایا نزول مسیح بن مریم ہی ذکر فرمایا کبھی بھی حیات عیسی علیہ السلام کا لفظ آپ کی زبانِ مبارک پر نہیں آیا۔ماہنامہ تعلیم القرآن راولپنڈی نومبر ۱۹۷۴ صفحه ۱۷) صحابہ کرام کے دو عظیم الشان اجماع وفات مسیح پر، (1) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جاں نثاری، (733)