تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 732 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 732

وفاتیح اور احادیث اگر چہ نصوص قرآنیہ کے بعد کسی حدیث کی حاجت نہیں لیکن دو حدیثوں کا ذکر کرنا بھی حدیث۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِیسَی حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا الَّا اتَّبَاعِی که اگر موسیٰ اور عیسی زندہ ہوتے تو وہ آج ضروری میری پیروی کرتے۔یعنی وہ فوت ہو چکے ہیں۔(تفسیر ابن کثیر برحاشیه فتح البیان جلد ۲ صفحه ۲۴۶، الیواقیت والجواہر جلد ۲ صفحه ۲۴، شرح مواہب لدنیہ جلد ۲ صفحہ ۷۶) اسی حدیث کی بناء پر امام ابن القیم کی کتاب میں بھی لکھا ہے لو كَانَ مُوسى وَعِيسَى فِي حَيَاتِهِمَا لَكَانَ مِنْ اتباعه (مدارج السالکین جلد ۲ صفحہ ۳۱۳) اگر موسیٰ اور عیسی بقید حیات ہوتے تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع میں شامل ہوتے۔“ یا درکھنا چاہئے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کے متعلق اس قسم کے الفاظ مختلف طریق پر آئے ہیں۔مندرجہ بالا روایت میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی دونوں کا نام ہے۔ایک روایت میں صرف حضرت موسیٰ کا نام ہے اور ایک میں صرف حضرت عیسی علیہ السلام کا نام ہے اور وہ یہ ہے لَوْ كَانَ عِيسَى حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا إِتِّبَاعِى (شرح فقہ اکبر مطبوعہ مصر صفحه ۱۰۰) امام ملا علی قاری لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر حضرت عیسی زندہ ہوتے تو میری تابعداری کرتے۔پس کسی روایت میں صرف موسیٰ کا لفظ پا کر متذکرہ صدر روایت کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔جس طرح صرف حضرت عیسی والی روایت سے موسی والی روایت کو رڈ نہیں کیا جا سکتا۔بلکہ ان میں سے ہر ایک اپنی اپنی جگہ درست ہے۔علامہ ابن رشید البغدادی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں کیا خوب کہا ہے۔مَحَوْنَا بِكَ الْأَدْيَانَ لَوْ عَاشَ رُسُلُنَا لَجَاءَكَ عِيسَى تَابِعًا وَكَلِيمُ اے رسول ! تیرے ذریعہ سے سب دین منسوخ ہو گئے۔اگر پہلے رسول زندہ ہوتے لے ہم نے اختصار کو مد نظر رکھا ہے اسلئے جملہ آیات و احادیث درج نہیں کیں۔ماننے والے کیلئے تو ایک دلیل بھی کافی ہوتی ہے۔(مؤلف) (732)