تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 654 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 654

مولوی ثناء اللہ صاحب کی بے نیل مرام موت شاعر نے درست کہا ہے مرا بمرگ عدو جائے شادمانی نیست که عمر ما نیز جاودانی نیست مولوی ثناء اللہ صاحب ۱۵ مارچ ۱۹۴۸ ء کو سرگودھا میں فوت ہو گئے ہیں۔اب وہ مقابلہ جو زندگی بھر جاری رہا ، وہ ختم ہو گیا۔وہ خداوند تعالیٰ کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی کے لئے پہنچ گئے ہیں اور ہم سب اپنے اپنے وقت پر اپنے رب کے حضور حاضر ہونے والے ہیں۔دلائل و حقائق کی رو سے سلسلۂ بحث جاری رہ سکتا ہے۔بلاشبہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد چالیس برس کی لمبی مہلت پائی ہے اور اس عرصہ میں مولوی صاحب نے اپنا پورا زور صرف کیا ہے کہ سلسلہ احمدیہ نابود ہو جائے۔مگر دنیا جانتی ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اپنے اس مقصد میں بالکل ناکام ہوئے ہیں۔ہم ذیل میں مولوی صاحب کی وفات اور اُن کی ناکامی کے تذکرہ کے لئے چند اہم اقتباسات پیش کرتے ہیں۔حالات وفات (1) مولوی عبد المجید صاحب سوہدروی اپنی کتاب سیرت ثنائی مطبوعہ مقبول عام پریس لاہور میں لکھتے ہیں :- مولانا مرحوم شہر کے مسلم رؤسا میں سے تھے، لاکھوں روپے کا سامان موجود تھا، ہزاروں روپے نقد، ہزار ہا روپے کے زیورات صندوقوں میں بند تھے، ہزار ہا روپیہ کا کتب خانہ تھا ، پار چات کی کمی نہ تھی ،مگر مولانانے کسی چیز کو نگاہ حسرت آمیز سے بھی نہیں دیکھا، نہ آپ کچھ اُٹھایا، نہ دوسروں کو اُٹھانے دیا۔اُس وقت صرف پچاس روپے آپ کی جیب میں تھے اور معمولی کپڑے زیب بدن ، اُسی حالت میں آپ معہ اہل و عیال مکان چھوڑ گئے ، اور کسی دوسری جگہ شب باش ہوئے۔آپ کا مکان کو چھوڑنا ہی تھا کہ بدمعاش لٹیرے ، جو اسی انتظار میں (654)