تفہیماتِ ربانیّہ — Page 653
ثناء اللہ کا یہ عذر لنگ عقلمندوں کی نظر میں مضحکہ خیز ہے بالخصوص اس لئے کہ مولوی صاحب نے ہماری طرف سے اُن پر اعتراض ہونے سے قبل انہوں نے کبھی یہ تصریح نہیں کی تھی، بلکہ ہمیشہ یہی لکھتے رہے کہ مباہلہ وہ ہوتا ہے جس میں فریقین بالمقابل دُعا کریں۔علاوہ ازیں غلام دستگیر کی دُعا کو یکطرفہ قرار دینے میں بھی مولوی صاحب کا مغالطہ ہے۔واقعہ یہ ہے کہ وہ بددعا صحیح طور پر دُعاء مباہلہ تھی۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب انجام آتھم میں علماء کو دعوت مباہلہ دیتے ہوئے جن میں سے ستر ہوئیں نمبر پر غلام دستگیر قصوری کا نام بھی ہے صاف تحریر کر دیا تھا کہ :- گواہ رہ۔اے زمین! اور اے آسمان! کہ خدا کی لعنت اُس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو۔اور نہ تکفیر اور تو ہین کو چھوڑے۔“ انجام آتھم صفحہ ۶۷) گویا حضرت کی طرف سے بددعا ہوگئی۔بعد ازاں غلام دستگیر نے بھی اپنی کتاب فتح رحمانی صفحہ ۲۶-۲۷ مطبوعہ ۱۳۱۵ ہجری میں حضرت پر بددعا کی اور وہ ہلاک ہو گیا۔پس غلام دستگیر کی ہلاکت مباہلہ سے ہوئی۔لہذا یہ اعتراض بھی باطل ہے۔اب مولوی ثناء اللہ صاحب کے اس اعتراض کا بخوبی قلع قمع ہو گیا جو مولوی صاحب اپنے آپ کو زندہ بتا کر پیش کیا کرتے ہیں حقیقت یہی ہے کہ مولوی صاحب کی موجودہ زندگی احمدیت کا ایک نشان اور ان کے لئے باعث حسرت ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ مولوی صاحب کو شجر احمدیت کی کامیابی دکھائے تا اس کی موت حسرت کی موت ہو جو دلائل کی موت کے بعد بہت بڑا عذاب ہے۔سو اُس نے کافی مہلت دے کر یہ سارا نقشہ دکھا دیا۔اے کاش کہ مولوی صاحب اب بھی نصیحت حاصل کریں ، اور حق کو قبول کریں۔وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغه مراد مانصیحت بود گفتیم * حوالت با خدا کردیم و رفتیم (653)