تفہیماتِ ربانیّہ — Page 655
گھات لگائے بیٹھے تھے ، ٹوٹ پڑے، اور تمام سامان ، نقدی، زیورات وغیرہ ٹوٹ کر لے گئے ، اور اس ٹوٹ کھسوٹ کے بعد مکان کو بھی نذر آتش کر دیا۔ٹیروں نے اسی پر بس نہ کی ، بلکہ آپ کا وہ عزیز ترین کتب خانہ جس میں ہزار ہا روپے کی نایاب و قیمتی کتابیں تھیں، اور جن کو آپ نے بڑی محنت اور جانفشانی سے جمع کیا، اور خریدا تھا، جلا کر خاک کر دیں۔کتابوں کے جلنے کا صدمہ مولانا کو اکلوتے فرزند کی شہادت سے کم نہ تھا۔یہ کتابیں حضرت کا سرمایہ زندگی تھیں اور ان میں بعض تو اس قدر نایاب تھیں کہ اُن کا ملنا ہی مشکل بلکہ ناممکن ہو چکا تھا۔یہ صدمہ جانکاہ آپ کو آخری دم تک رہا، اور حقیقت میں آپ کی ناگہانی موت کا سبب یہ دو ہی صدمات تھے، ایک فرزند کی اچانک شہادت اور دوسرے بیش قیمت کتب کی سوختگی۔چنانچہ یہ دونوں صدمے تھوڑے عرصہ میں آپ کی جان لے کر رہے۔“ (سیرت ثنائی صفحہ ۳۹۰،۳۸۹) (۲) اخبار الاعتصام لاہور لکھتا ہے :- اگست ۱۹۴۷ء میں امرتر نہایت قیامت صغریٰ کا نمونہ پیش کر رہا تھا۔فسادات کے ہلاکت خیز طوفانوں نے مولانا کی اقامت گاہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہر چند کہ وہ اپنے دیگر عزیزوں کے ہمراہ سلامتی سے نکل آنے میں کامیاب ہو گئے لیکن اُن کی آنکھوں کے سامنے اُن کا جوان اکلوتا بیٹا عطاء اللہ جس بُری طرح ذبح کیا گیا اُس نے اُن کے قلب و جگر کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔پاکستان میں تشریف لا کر مولانا کچھ عرصہ تک گوجرانوالہ میں ٹھہرے اور پھر وہاں سے سرگودھا جا کر اقامت پذیر ہوئے اور وہیں چند ماہ کے بعد اپنے اللہ کے حضور تشریف لے گئے۔“ ( الاعتصام ۱۵ جون ۲۲ صفحہ ۱۰) سلسلہ احمدیہ کی ترقی اور مولوی ثناء اللہ صاحب کی ناکامی کا اعتراف لائل پور میں مولوی عبدالرحیم صاحب اشرف مدير المنبر (سابق المنیہ ) سلسلہ احمدیہ کے شدید معاند ہیں۔انہوں نے ۱۹۵۶ء میں گھلے بندوں اعتراف کیا تھا۔وہ لکھتے ہیں کہ :- (655)