تفہیماتِ ربانیّہ — Page 638
گویا حضرت مسیح موعود علیہ السّلام اس صید لاغر کو چند روز اور مہلت دینا چاہتے تھے اور حقیقۃ الوحی کی طباعت کے بعد تک اسے ملتوی کرنا چاہتے تھے جیسا کہ عبارت بالا سے ظاہر ہے مگر خدا تعالیٰ جو عالم الغیب ہے ، اور جسے خُوب معلوم تھا کہ مولوی ثناء اللہ امرتسری آئندہ کیا طریق اختیار کرے گا۔اُس نے نہ چاہا کہ اس سلسلہ مباہلہ کو معرض تعویق میں رکھا جاوے۔کیونکہ اس کے نزدیک مولوی ثناء اللہ پر اتمام محبت ہو چکی تھی۔اس لئے مشیت ایزدی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارادہ التواء کو تبدیل کروا کر حضور کی طرف سے ۱۵ را پریل ۱۹۰۷ء کو ایک اشتہار بعنوان ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ شائع کروا دیا۔جس میں حضور نے ۲۹ / مارچ 190 ء کی دعوت مباہلہ کے بالمقابل اپنی طرف سے دُعائے مباہلہ شائع فرما دی، گویا جھوٹے کو گھر تک پہنچا دیا۔اور اس طرح سے وہ عمارت ( اتمام محنت کی ) مکمل ہو گئی جس کی بنیاد خداوند تعالیٰ کی طرف سے رکھی گئی تھی۔اور اسی کی خاطر انجام آتھم و اعجاز احمدی میں بار بار دعوت مباہلہ دی گئی تھی۔قارئین کرام ! آپ خدائی تصرفات پر غور کریں اور اُس کی شان علم غیب کا مطالعہ فرمائیں کہ وہ مولوی ثناء اللہ صاحب پر محبت پوری کرنے کے لئے کس طرح سے حضرت کے اپنے خیال کے برخلاف، خاص تحریک سے دُعائے مباہلہ شائع کرواتا ہے۔حتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود فرماتے ہیں :- ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خُدا ہی کی طرف سے اس کی بنیا د رکھی گئی ہے۔“ (بدر ۲۵ را پریل ۱۹۰۷ء) اس خاص تحریک کی وجہ یہ تھی کہ خدا تعالیٰ کو معلوم تھا کہ مولوی ثناء اللہ امرتسری اپنے اخبار ۱۹ را پریل میں سرے سے ہی منکر ہو جائے گا۔اور کہے گا کہ میں نے تو دعوت مباہلہ دی ہی نہیں۔اور اس وقت دُعائے مباہلہ کا شائع کرنا بے وقت ہوگا۔اس لئے اس کے انکار کی اشاعت سے پہلے پہلے ہی ۱۵ را پریل ۱۹۰۷ ء کو حضرت کی طرف سے دعائے مباہلہ شائع کروادی۔اور یہی حکمت الہی تھی کہ حقیقۃ الوحی کی اشاعت سے قبل ہی دُعائے مباہلہ شائع کروادی گئی۔موادی ثناء اللہ صاحب نے جس طرح 19 اپریل کے اہلحدیث میں چیلنج مباہلہ سے انکار کردیا۔اسی طرح (638)