تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 639 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 639

حضرت اقدس کی شائع کردہ دُعائے مباہلہ کے بالمقابل دُعا نہ کی تا مباہلہ منعقد ہو جاتا اور پہلے کرنے والا کا ذب قرار پاتا۔بلکہ اُس نے دُعائے مباہلہ کورڈ کیا اور اس طریق فیصلہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔(اہلحدیث ۲۶ / اپریل ۱۹۰۷ ء ) جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ مباہلہ واقع نہ ہوا۔باوجود یکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۹۷ء سے متواتر کوشش کرتے رہے کہ مولوی ثناء اللہ امرتسری مباہلہ کر لے۔مگر اس نے دس سال کے عرصہ میں مختلف رنگ بدل کر آخر ۱۹۰۷ ء میں گھلے طور پر انکار کر کے خدا کے فرموده ولا يتمنونه ابداً کی پھر ایک مرتبہ تصدیق کر دی۔اور احمدیت کی زبردست قوت روحانی کا عملاً اقرار کر لیا اس صورت میں جبکہ وقوع مباہلہ کی شق درمیان میں نہ رہی کسی فریق کا پہلے مر جانا ، اس کے کذب کی دلیل نہ ٹھہرا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں اور پیشگوئیوں کے مطابق ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یوم وصال مقرر فرما دیا۔اور حضور اس دار فانی سے رحلت فرما گئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اور مولوی ثناء اللہ صاحب اپنی انتہائی جد وجہد کے باوجود ناکامی کا منہ دیکھنے کیلئے زندہ رکھے گئے۔خود مولوی صاحب نے لکھا تھا کہ :- " آنحضرت علیہ السلام با وجود سچا نبی ہونے کے مسیلمہ کذاب سے پہلے انتقال ہوئے۔مسیلمہ باوجود کاذب ہونے کے صادق سے پیچھے مرا۔۔۔مگر آخر کار چونکہ بے نیل مرام مرا۔اس لئے دعا کی صحت میں شک نہیں۔“ ( مرقع قادیانی ماہ اگست ۱۹۰۷ء) لیکن ۲۶ مئی ۱۹۰۸ ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے موقعہ کو غنیمت جان کر امرت سری مکذب نے ، جو ہر مقابلہ میں پیٹھ دکھاتا رہا ہے، شور مچانا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب کا پہلے فوت ہو جانا اُن کے کذب کی دلیل ہے۔کیونکہ اشتہار ۱۵ را پریل یکطرفہ دُعا تھی۔اور اس کا اس سلسلہ مباہلہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔اور میرا زندہ رہنا اور لمبی عمر پانا، میرے بچے ہونے کی علامت ہے۔اشتہار ۱۵ر اپریل کے دُعاء مباہلہ ہونے پر بارہ دلائل ! ہم اس کے اس کذب کے ابطال کے لئے ذیل میں وہ بارہ دلائل لکھتے ہیں جو آفتاب نیمروز (639)