تفہیماتِ ربانیّہ — Page 623
یہ مطلب نہیں۔چنانچہ حضرت اقدس نے تحریر فرمایا ہے :- (۱) اسی طرح خدا تعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ ان (ابنیاء) کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے۔اور جس راستبازی کو دُنیا میں وہ پھیلانا چاہتے ہیں ، اس کی تخمریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اس کی پوری تکمیل انہی کے ہاتھ سے نہیں کرتا“ (الوصیت صفحہ (۵) (۲) ”میں نہیں کہ سکتا کہ پورے طور پر ترقی اسلام کی میری زندگی میں ہوگی ، یا میرے بعد۔ہاں میں خیال کرتا ہوں کہ پوری ترقی دین کی کسی نبی کی حین حیات میں نہیں ہوئی۔بلکہ انبیاء کا کام یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ترقی کا کسی قدر نمونہ دکھلا دیا۔اور پھر بعد اُن کے ترقیاں ظہور میں آئیں۔جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لئے اور ہر ایک اسود اور احمر کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔مگر آپ کی حیات میں احمر یعنی یورپ کی قوم کو تو اسلام سے کچھ بھی حصہ نہ ملا۔ایک بھی مسلمان نہیں ہوا۔اور جو اسود تھے اُن میں سے صرف جزیرۂ عرب میں اسلام پھیلا۔اور مکہ کی فتح کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی۔سو میں خیال کرتا ہوں کہ میری نسبت بھی ایسا ہی ہوگا۔‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم صفحہ ۱۹۳) (۳) یا درکھو کہ کوئی آسمان سے نہیں اُترے گا۔ہمارے سب مخالف جو اب زندہ موجود ہیں، وہ تمام مریں گے۔اور کوئی اُن میں سے عیسی بن مریم کو آسمان سے اُترتے نہیں دیکھے گا۔اور پھر اُن کی اولا د جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی۔اور اُن میں سے کوئی آدمی عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔اور پھر اولاد کی اولا د مرے گی ، اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی۔تب خُدا اُن کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گذر گیا ، اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی ،مگر مریم کا بیٹا عیسی اب تک آسمان سے نہ اترا۔تب دانشمند یک دفعہ (623