تفہیماتِ ربانیّہ — Page 624
اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے۔اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسی کے انتظار کرنے والے ، کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے۔اور دُنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو تخمریزی کرنے آیا ہوں۔سو میرے ہاتھ سے وہ خم بویا گیا اور اب بڑھے گا ، اور چھولے گا۔اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“ ( تذکرۃ الشہادتین صفحہ ۶۵) ان اقتباسات سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس نے اسلام کے کامل غلبہ کے لئے تین صدیاں مقرر فرمائی ہیں اور اپنے آپ کو تخمریزی کرنے والا قرار دیا ہے۔آثار سے بھی ظاہر ہے کہ خدا کے یہ نوشتے یقینا پورے ہونگے۔بہر حال معترض کا اعتراض باطل ہے۔الجواب ۳۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :- هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ۔اور پھر بخاری شریف میں بھی لکھا ہے۔لَنْ يَقْبِضَهُ حَتَّى يُقِيْمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْ جَأَ ( جلد ۳ صفحہ ۱۳۶) اللہ تعالیٰ آپ کو وفات نہ دے گا۔جب تک کہ ٹیڑھے دینوں کو درست نہ کر دیوے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ۔میں وہ الماحی ہوں جس کے ذریعہ سے اللہ تعالی گفر کو مٹا دے گا۔کیا سارا کفر مٹ گیا ؟ " انَّهُ زرقانی میں لکھا ہے :- في فتح البارى أُسْتُشْكِلَ بِأَنَّهُ مَا انْمَحَى مِنْ جَمِيعِ الْبِلَادِ وَاجِيْبَ بِحَمْلِهِ عَلَى الْأَغْلَبِ أَوْ عَلَى جَزِيرَةِ الْعَرَبِ او انه يُمحى بِسَبَبِهِ اَوَّلًا فَاَوَّلًا إلى أَنْ يَضْمَحِلَّ فِي زَمَن آؤ عیسی۔“ (زرقانی شرح موطا جلد ۴ صفحه ۲۵۰) یعنی فتح الباری میں اشکال پیش کیا گیا ہے کہ ہنوز کفر سب شہروں سے تو محو نہیں ہوا۔اس کے تین جواب ہیں۔(۱) کفر کا اکثری محو مراد ہے۔(۲) صرف جزیرہ عرب مراد تھا۔(۳) آنحضرت کے ذریعہ سے آہستہ آہستہ کفر میٹ رہا ہے۔یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ ( تین صدیوں ) میں بالکل مضمحل ہو جائے گا۔“ (624)