تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 622 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 622

نہیں دیکھتی۔اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود مہدی معہود کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں۔اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا ، تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“ (عشرہ صفحہ ۱۶۰) اس عبارت کو نقل کر کے معترض کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہوا بلکہ اسلامی ملکوں کی حالت اور بھی ابتر ہوگئی ہے۔الجواب ،ا۔حضرت اقدس نے اس عبارت میں دعوئی فرمایا ہے کہ میں وہی کام کروں گا جو مسیح موعود کے لئے کرنا ضروری ہے، اور وہ کسر صلیب ہے۔سوسب سے پہلے یہ یادر کھئے کہ مسیح موعود کا کسر صلیب کرنا کن معنوں سے ہے؟ زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں ایک حوالہ درج کرتا ہوں لکھا ہے :- " فُتِحَ لِى هُنَا مَعُنَّى مِنَ الْفَيْضِ الإِلَهِي وَهُوَ أَنَّ الْمُرَادَ مِنْ كَشرِ الصَّلِيبِ إِظْهَارُ كَذِبِ النَّصَارَى حَيْثُ ادَّعُوا أَنَّ الْيَهُودَ صَلَّبُوا عِيسَى عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ عَلى خَشَبٍ فَأَخْبَرَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ الْعَزِيزِ بِكَذِبِهِمُ وافْتِرَاعِهِمْ “ " (عمدۃ القاری فی شرح البخاری جلد ۵ صفحه ۵۸۴ مطبوعه مصر) یعنی شارح فرماتے ہیں کہ مجھے کسر صلیب کے معنی الہاما بتائے گئے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ مسیح موعود آکر نصاری کے اس کذب کا خوب اظہار کر دے گا ، جو وہ کہتے ہیں کہ یہود نے حضرت مسیح کو صلیب پر مار دیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بھی اُن کے کذب اور جھوٹ کی خبر دی ہے۔“ بات صاف ہے کہ حضرت اقدس نے مسیح موعود کا مفوضہ کام کرنا تھا اور وہ کسر صلیب ہے، یعنی مسیح کی صلیبی موت کا ابطال۔پھر یہ امر بھی اظہر من الشمس ہے کہ جس رنگ میں حضرت نے کسر صلیب کی ہے وہ قرآن مجید کی روشنی میں بے نظیر و بے مثال ہے لہذا اعتراض باطل ہے۔الجواب ۲۔اگر مکذب نے اس اقتباس سے یہ سمجھا ہے کہ حضرت کا دعویٰ یہ ہے کہ میری زندگی میں سب لوگ مسلمان ہو جائیں گے تو یہ خود اس کی غلطی ہے۔اس عبارت کا (622)