تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 549 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 549

الجواب - معترض نے اس دعوی کے لئے کوئی آیت یا حدیث پیش نہیں کی اس لئے شائستہ اعتناء نہیں۔دراصل عاق قرار دینا اس بات کا مترادف ہے کہ میں شدید دینی اختلاف کے باعث اپنی جائیداد سے حصہ نہیں دینا چاہتا۔جس طرح زندگی میں جائیداد کو باپ تقسیم کرتا ہے اسی طرح دینی مخاصمت کی بناء پر بیٹے کو اس سے محروم بھی قرار دے سکتا ہے۔فقہاء بھی اختلاف دین کو محروم الارث ہونے کا ایک سبب تسلیم کر چکے ہیں۔(۵) قوله - ” کیا انبیاء کرام اور بزرگانِ دین اسلام میں کوئی ایسی مثال موجود ہے کہ کسی نے ایک عورت کے نکاح کے لئے ایسے پاپڑ بیلے ہوں؟ (عشره صفحه ۱۴۱ حاشیه ) الجواب - پاپڑ بیلنے کا تو وہی اعتراض ہے جو سب مخالفین اسلام حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے نکاح کے متعلق کیا کرتے ہیں۔کیا آریہ اور عیسائی معاند بعینہ یہی لفظ نہیں لکھتے۔نہ اس جگہ کوئی قابل اعتراض بات ہے نہ وہاں تھی۔نکاح کے متعلق ایک پیشگوئی تھی جس کا ذکر فصل دہم میں موجود ہے۔یہ ایک نشان ہے جو اپنی قبری تحلی کے ساتھ پورا ہوا۔اور شرط کے مطابق پیشگوئی حرف بحرف سچی ثابت ہوئی۔اللہ تعالیٰ معترضین کی آنکھیں کھولے۔آمین۔(1) قوله - احادیث صحیحہ سے واضح ہے کہ نبیوں کا مال کسی کی میراث نہیں ہوتا۔؟ (عشره صفحه ۱۴۲) الجواب - " معترض نے اس جگہ بھی خیانت سے کام لیا ہے۔کیونکہ اس نے حدیث لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ کو تو نقل کر دیا مگر اس کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ ، حضرت عمر اور ایک گروہ صحابہ کی جو تفسیر يُرِيدُ بِذَلِكَ نَفْسَهُ ، ذكور تھی اس کو حذف کر دیا۔( دیکھو بخاری باب فرض انمس جلد ۲ صفحہ ۱۱۷ مصری)۔پس اس کا پہلا جواب تو یہی ہے کہ ان احادیث میں خاص رسول کریم (549)