تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 548 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 548

احمد صاحب کو بالآ خر تو بہ کی توفیق بخشی اور وہ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔بہر حال اُس وقت حضرت نے اُن کی حالت کے متعلق اشتہار نصرت دین میں لکھا تھا کہ :- ”میری مخالفت پر کمر باندھی اور قولی اور فعلی طور پر اس مخالفت کو کمال تک پہنچایا اور میرے دینی مخالفوں کو مدد دی اور اسلام کی ہتک بدل و جان منظور رکھی۔سوچونکہ اس نے دونوں طور کے گناہوں کو اپنے اندر جمع کیا۔اپنے خدا کا تعلق بھی توڑ دیا اور اپنے باپ کا بھی ، اور ایسا ہی اُس کی دونوں والدہ نے کیا۔سو جب کہ انہوں نے کوئی تعلق مجھ سے باقی نہ رکھا اس لئے میں نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند ر کھنے میں معصیت نہ ہو۔“ ( تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحہ ۱۰) (۳) قوله - ”اپنے لڑ کے فضل احمد کو مجبور کیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔الخ“ (عشرة) الجواب۔اس کی وجہ تو وہی تھی جو او پر مذکور ہو چکی ہے۔یوں شریعتِ اسلامیہ میں باپ یا ماں کو اختیار ہے کہ دینی حالات کے مناسب بیٹے کی بیوی کو طلاق دلوادیں۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے حضرت اسمعیل کو کہہ کر اُن کی بیوی کو طلاق دلوا دی تھی۔( بخاری کتاب بدء الخلق جلد ۲ صفحہ ۱۴۷) حضرت عمر نے ابن عمر کو کہا تھا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔(ترمذی جلد ۱ صفحہ ۱۴۲ کتاب الطلاق ) ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت سے کہا کہ میری والدہ مجھے بیوی کے طلاق دینے کا حکم دیتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر طلاق دیدو۔کیونکہ الْوَالِدُ أوْسَطُ ابواب الجَنَّة۔پس حالات کے پیش نظر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایسا کرنا ہرگز قابل اعتراض نہ تھا۔(۴) قوله ” شریعت کی رُو سے عاق بیٹا محروم الارث نہیں ہو سکتا۔“ 548) (عشره صفحه ۱۴۱)