تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 550 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 550

کی ذات مراد ہے۔یہ تخصیص حضرت عائشہ اور عمر ایسے صحابہ نے بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ اس قانون سے خاص حضور کی ذات ہی مرا تھی۔دوم - عام معنوں کے لحاظ سے یہ آیت قرآنی وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوَدَ (النحل رکوع ۲) کے مخالف ہے۔جس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث ہوئے تھے۔وارث ہونے والا بھی نبی ہے اور جس کی وراثت ہے وہ بھی نبی ہے۔سوم۔عقلاً یہ ایک ظلم ہے کہ زید اور عام مومنین کے بیٹے تو ان کی جائیداد کے وارث ہوں مگر نبیوں کا بیٹا ہونا بھی کوئی جرم ہے جو انسان ان کی وراثت سے محروم ہو جاتا ہے۔در اصل بات یہ ہے کہ نبیوں کے اموال دو قسم کے ہوتے ہیں۔ذاتی ، قومی۔قومی اموال قوم و مذہب کی ایک امانت اُن کے سپرد ہوتی ہے۔اُن اموال کی وارث ان کی اولا د جسمانی نہیں ہو سکتی بلکہ روحانی اولا د یعنی ان کی اُمت اور اُن کا خلیفہ ان اموال میں ان کا جانشین ہوگا۔ہاں اگر کسی نبی کی ذاتی یا جدی جائیداد موجود ہو تو وہ اس کی نسل میں ضرور وراثہ تقسیم ہوگی۔رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ذاتی جائیداد نہ تھی اس لئے آپ نے اپنی وراثت کے جاری ہونے سے انکار فرمایا۔حضرت داؤد کی ذاتی جائیداد تھی اسلئے سلیمان ان کے وارث ہوئے۔نفس وراثت کو منافی نبوت سمجھنا عقل و نقل کے خلاف بغاوت کرنا ہے۔چونکہ حضرت اقدس کی جڑی جائیداد موجود تھی اسلئے ان اموال میں حضور کی وراثت ہوسکتی تھی اور ہوئی۔ہاں جو قومی اموال تھے ان میں ساری جماعت اور خلیفہ وقت حضور کا جانشین ہے فلا اعتراض۔فقرہ نہم۔مرزا صاحب اور تصوف منشی محمد یعقوب لکھتے ہیں :۔550