تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 532 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 532

واه سعدی دیکھ لی گندہ دہانی آپ کی خوب ہوگی مہتروں میں قدر دانی آپ کی بیت ساری آپ کی بیت الخلا سے کم نہیں ہے پسند خاکروباں شعر خوانی آپ کی ساری نظم کے لئے ملاحظہ ہو ( آئینه حق نما صفحہ ۱۰۷) الغرض سعد اللہ اور اس کی قماش کے بعض دوسرے بد زبان جن کے حق میں حضرت نے بعض سخت الفاظ لکھے ہیں وہ اس کے مستحق تھے۔ایسے ہی موقع پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایسے حلیم الطبع بزرگ نے ایک کافر کو کہہ دیا تھا امضض بظرَ اللَّاتِ “ کہ حالات کی شرمگاہ چوستاره (زاد المعاد صفحہ ۳۷۵ جلد اول) اب کیا حضرت ابوبکر بد اخلاق تھے؟ ہر گز نہیں۔پس پٹیالوی صاحب کا یہ اعتراض بھی باطل ہے۔آنحضرت کا خلق عظیم اور مخالفین پر بددعا خلق عظیم کے ماتحت ضروری ہے کہ ہر استعداد کو اس کے موقع پر ظاہر کیا جائے۔صاحب خلق عظیم کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاغْلُظ عَلَيْهِمْ کہ ان کفار و منافقین پر سختی کر۔پھر آپ کے مُنہ سے کہلوایا وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ هَمَّارٍ مَّشَاء بِنَمِيمٍ مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ عُتُلٍ بَعْدَ ذلِكَ زَنِيمٍ (القلم رکوع ۱) معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ کہنا خُلق عظیم کے منافی نہیں۔کیونکہ خلق عظیم غیرت جیسی اعلیٰ صفات کو تباہ کر دینے کا نام نہیں۔پھر با موقع بددعا کرنا بھی خلقِ عظیم کے منافی نہیں۔حضرت نوح نے بددعا کی ربّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا۔اے خدا! زمین پر کسی کافر کو بھی نہ چھوڑو دوسرے انبیاء بھی بددعائیں کرتے رہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بددعائیں کی ہیں۔رعل و ذکوان قبیلوں کے خلاف حضور عرصہ تک روزانہ بددعا فرماتے رہے۔لکھا ہے :۔دعا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمْ شَهْراً فِي صَلوةِ الْغَدَاةِ " (بخاری کتاب المغازی جلد ۳ صفحه ۸) کہ حضور مہینہ بھر ان کے خلاف صبح کی نماز میں بد دعا کرتے رہے۔(532)