تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 469 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 469

است ز آسمان بز میں میرسانمش گر بشنوم نه گوشش آنرا کجا برم (حضرت مسیح موعود ) ڈھکوسلہ کی بھی ایک ہی کہی۔کیا قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے آئندہ کے ہر انعام ربانی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت سے وابستہ نہیں کر دیا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قل إن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( آل عمران رکوع ۴) وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَبِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولبِكَ رَفِيقًا (نساء رکوع ۹) اے رسول ! تُو کہدے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو محبوب کبریا بن جاؤ گے۔دوسری جگہ فرمایا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرے گا وہ منعم علیہ گروہ میں شامل ہو جائے گا جو نبی، صدیق ، شہید اور صالح ہیں اور یہ بہترین ساتھی ہیں۔حدیث میں رسول پاک بھی فرماتے ہیں لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِی کہ اگر موسیٰ اور عیسی زندہ ہوتے تو اُن کے لئے بھی بجز میری متابعت کے چارہ کار نہ ہوتا۔اس حدیث اور آیتِ قرآنی کی روشنی میں صاف ظاہر ہے کہ شانِ موسوی اور شانِ عیسوی کے مالک حضور کے غلاموں اور خدام میں ہیں۔نِعْمَ مَا قَالَ الْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ فِي مَدْحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ه صد ہزاراں یوسفے بینم دریں چاہ ذقن واں مسیح ناصری شد از دم او بیشمار در ثمین فارسی ) اخبار اہلحدیث بھی لکھتا ہے۔ہے غلامی آپ کی ہے بادشاہی ملک عقبی کی اطاعت آپ کی سرمایہ ہے عیش مخلد کا (اہل حدیث ۲۶ جولائی ۱۹۱۲) لے جناب مولوی محمد قاسم صاحب بانی مدرسہ دیو بند کا مدرج نبوی میں شعر ہے ؎ جو انبیاء ہیں وہ آگے تیری حیات کے کریں ہیں اُمتی ہونے کا پانی اقرار (قصائد قاسمی مطبوعہ مجتبائی صفحہ ۵) ܀ (469)