تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 470 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 470

بہر کیف حضرت مرزا صاحب کا اعتراف متابعت قابلِ اعتراض نہیں بلکہ اظہارِ حقیقت ہے۔ناظرین کرام! اس جگہ اتنی بات ضرور یاد رکھیں کہ معترض پٹیالوی نے تسلیم کر لیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے ہمیشہ یہی کہا کہ : متابعت تامہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے یہ درجہ حاصل ہوا ہے۔“ کیونکہ ابھی عنقریب وہ یہ الزام لگائے گا کہ (نعوذ باللہ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر افضلیت کا دعویٰ کیا ہے۔وبينهما بون بعید۔(۹) قوله " فرقہ قادیانی کے پیشوائے موجودہ یعنی مرزا صاحب کے پسر مرزا محمود احمد ( ایدہ اللہ بنصرہ) نے تو نبوت کو ایسا عام اور ایسا ارزاں کر دیا کہ ان کے مسلمات کی رُو سے تمام ایسے کذاب اور مفتری جنہوں نے گزشتہ ۱۳۰۰ سال میں دعوئی نبوت کیا بچے نبی ٹھہرتے ہیں۔“ (عشرہ صفحہ ۱۰۳ حاشیہ) اقول۔محض افتراء ہے۔بھلا اگر ہمارے مسلمات کی رُو سے ان میں سے کوئی ایک نبی بھی سچا ثابت ہوتا تو ہم کیوں نہ اُس کی تصدیق کرتے۔ہمارا کوئی ایسا مسلمہ عقیدہ نہیں جو کسی جھوٹے کو سچا ثابت کر سکے۔ہاں ہمارے اصول اور قرآن مجید کے اصول کے مطابق جو نبی سچا ٹھہرتا ہے ہم اس کو سچا مانتے ہیں والا فلا۔ہم نبوت کو نہ ارزاں کر سکتے ہیں نہ گراں۔یہ تو خدا تعالیٰ کے بس کی بات ہے فرمایا اللہ اعلم حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ( انعام رکوع (۱۵) کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ کہاں رسالت رکھے۔یہ ٹھیکہ تو اُن لوگوں نے لے رکھا ہے جو کہتے ہیں کہ ہنوز دنیا میں فسق و فجور کا دور باقی ہے۔ظلمت کا غلبہ ترقی پر ہے۔گویا دنیا کو نبوت کی ضرورت ہے۔اللہ تعالٰی کے خزانہ میں کوئی کمی نہیں آگئی۔لیکن بایں ہمہ وہ اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اب کسی قسم کا نبی نہ آئے گا۔بقول خود گویا انہوں نے نبوت کو گراں کر رکھا ہے۔ایسے ہی لوگوں کے متعلق ارشاد الہی ہے آهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبَّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (زخرف روع ٣) (470)