تفہیماتِ ربانیّہ — Page 468
ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں دل سے ہیں خدامِ المرسلين احمد مختار ہیں شرک اور بدعت سے ہم بیزار ہیں خاک راه تم ہمیں دیتے ہو کافر کا خطاب کیوں نہیں لوگو ! تمہیں خوف عقاب فقرہ دوم۔نبوت کا دعوے (در شمین) اس نمبر میں معترض پیٹیالوی نے اس فرسودہ اعتراض کو دُہرایا ہے کہ پہلے حضرت مرزا صاحب نے دعوی نبوت سے انکار کیا ہے اور بعد ازاں صراحتاً دعوی نبوت فرما دیا۔ہم اس اعتراض کا جواب فصل اول اور فصل چہارم میں بالتفصیل عرض کر چکے ہیں اُس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔مختصر یوں کہ انکار اُس نبوت کا ہے اور تھا جو شریعت والی اور بغیر اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حاصل ہو۔اقرار اُس نیقت کا ہے اور تھا جو غیر تشریعی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظلی نبوت ہے۔چنانچہ اس قسم نبوت کو امت میں بالا اتفاق جاری مانا گیا سے تفصیل کیلئے دیکھو فصل دوازدہم باب دوم۔اب ہم اس فقرہ کے بعض اعتراضات کا قوله واقول کے طرز پر مسلسل جواب لکھتے ہیں :- (۷) قوله - ”مرزا صاحب کی تصانیف والہامات میں نبی اور رسول کے الفاظ شروع سے ہی موجود تھے۔“ (عشرہ صفحہ ۱۰۲) اقول حق بر زبان جاری۔ہم بھی تو یہی کہتے ہیں۔(۸) قوله - " مرزا صاحب نے نہ صرف مسیح موعود اور نبی ہونے کا ہی دعوی کیا بلکہ ہر ایک نبی کے وجود اور کمال کے مظہر بن بیٹھے اور اس کے ساتھ ڈھکوسلہ یہ لگا دیا کہ متابعت تامہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے یہ درجہ حاصل ہوا ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۱۰۳) اقول - جب خدا تعالیٰ کسی کو مقامات رفعت عطا کرے تو وہ ان کے اظہار میں معذور ہے۔خوب فرمایا 468