تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 438 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 438

آج اس ضعف و اختلال کو محسوس کرنا کچھ مشکل نہیں۔حالات روز مرہ بسرعت تغیر پذیر ا۔ہورہے ہیں۔رسالہ تحفہ قیصریہ میں حضور نے ملکہ معظمہ کو دعوت دی کہ وہ اسلام قبول کریں اور اس کے لئے جلسہ جشن جو بلی میں دعا بھی کی گئی۔یہ درست ہے۔پھر انہوں نے اسلام کیوں قبول نہ کیا۔اس کا جواب ہم اعتراض ہے کے جواب میں مفضل لکھ چکے ہیں۔ایسی دعاؤں کی تاثیر کے لئے اس شخص کی استعداد اور توجہ کا بھی بہت دخل ہوتا ہے جس کیلئے دعا کی گئی ہے۔ہمارے آقا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت مظلومیت کے عالم میں دعا کی تھی۔منشی محمد یعقوب پٹیالوی لکھتے ہیں :- جنگ اُحد میں جب لشکر اسلامی کو کچھ چشم زخم پہنچا اور حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے بھی سر مبارک پر ضرب آئی اور دندانِ مبارک شہید ہوئے اُس وقت صحابہ نے عرض کیا کہ حضور حد ہو گئی ہے۔اب تو کفار کے حق میں دعا فرما دیں۔حضور رحمتہ للعالمین نے فرمایا اللهُمَّ اغْفِرْ قَوْمِن وَاهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ - يَا اللہ میری قوم پر بخشش کر اور اس کو ہدایت دے۔یہ لوگ میری دعوت اسلام کی قدر نہیں جانتے۔“ (عشرہ صفحہ ۱۲۳) مگر ساری قوم کے لوگ مسلمان نہ ہوئے اور جو ہوئے اُن میں سے بھی سارے کے سارے اعلیٰ درجہ کے نہ تھے۔اس میں ہمارے سید و مولی کی دعا پر کوئی زدنہیں پڑ سکتی۔بلکہ یہ ان لوگوں کے فطرتی نقص کی دلیل ہے۔پس اگر ملکہ معظمہ مسلمان نہ ہوئی تو اس میں حضرت مرزا صاحب کی دعا پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔افسوس ! یہ لوگ جنہیں بادشاہوں کو تبلیغ کرنے کی توفیق تو کجا اپنے ضلع کے حاکم کو بھی اسلام کا پیغام پہنچانے کی جرات نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر معترض ہیں کہ آپ نے نہایت ادب و احترام سے کیوں ملکہ معظمہ کو پیغام پہنچایا۔یہ خوشامد اور چاپلوسی ہے۔ہم اس حد تک تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت اقدس نے ملکہ معظمہ کو جو پیغام دیا اس میں اس کے واجب اکرام کو مدنظر رکھا ہے اور نرم لہجہ میں گفتگو کی ہے۔لیکن یہ امر قابل اعتراض نہیں کیونکہ لے ( آج طبع ثانی کے وقت ) ۱۹۶۳ ء میں سلطنت برطانیہ کے مقبوضات کا بیشتر حصہ آزاد ہو چکا ہے۔(مؤلف) (438)