تفہیماتِ ربانیّہ — Page 439
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو فرعون کی طرف بھیجا تھا تو ساتھ ہی تاکید فرمائی قُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيْنا (که رکوع ۲) کہ اُس کو نرم بات کہنا۔اگر فرعون ایسے جابر ، ظالم اور سرکش با دشاہ کو مخاطب ہوتے ہوئے بھی رفق و ملاطفت ضروری ہے تو پھر ملکہ معظمہ جیسی محسنہ اور رعایا پر ور ملکہ سے خطاب کرتے وقت کیوں نرمی ضروری نہیں ؟ جاہل اور نادان اس نرمی کو خوشامد اور چاپلوی کہ سکتا ہے۔مگر در حقیقت یہ اخلاق کا ضروری حصہ ہے اور خداوند تعالیٰ کا حکم ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے إِذَا جَاءَكُمْ كَرِيْمُ قَوْمٍ فَاكْرِمُوهُ۔جب کسی قوم کا معزز آدمی تمہارے پاس آئے تو اس کا اکرام و اعزاز کرو۔اس جگہ تو مخاطب ملکہ معظمہ تھی جو خود ہندوستان کی حکمران تھی۔پھر کیوں نہ اس کا اعزاز و اکرام کیا جاتا۔غور طلب یہ امر ہے کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ملکہ معظمہ کو دعوت اسلام دیتے ہوئے برعایت ادب حقیقت کو ظاہر کرنے میں کوتاہی کی؟ ہرگز نہیں ! بطور نمونہ مندرجہ ذیل فقرات ملاحظہ فرمائیں :- (1) " تو اس خوشی کے وقت میں جو شصت سالہ جو بلی کا وقت ہے یسوع کے چھوڑنے کے لئے کوشش کر۔“ (عشرہ صفحہ ۹۵ حوالہ تحفہ قیصریہ) (۲) '' اس ( خدا تعالیٰ ) نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ وہ اکیلا اور غیر متغیر اور قادر اور غیر محدود خدا ہے جس کی مانند اور کوئی نہیں۔( تحفہ قیصریہ صفحہ ۱۷) (۳) " کاش ہماری محسنہ ملکہ معظمہ کو اس آسمان کے خدا کی طرف خیال آجائے جس سے اس زمانہ میں عیسائی مذہب بے خبر ہے۔“ (صفحہ ۲۱ / ) (۴) اسی طرح قرآن عمیق حکمتوں سے پر ہے اور ہر ایک تعلیم میں انجیل کی نسبت حقیقی نیکی کے سکھلانے کے لئے آگے قدم رکھتا ہے۔بالخصوص بچے اور غیر متغیر خدا کے دیکھنے کا چراغ تو قرآن ہی کے ہاتھ میں ہے۔اگر وہ دنیا میں نہ آیا ہوتا تو خدا جانے دنیا میں مخلوق پرستی کا عدد کس نمبر تک پہنچ جاتا۔“ (صفحہ ۲۷ ) (۵) ” ہماری محسنہ قیصرہ ہند کو مخلوق پرستی کی تاریکی سے چھڑا کر لَا إِلهَ إِلَّا الله محمد رسول اللہ پر اس کا خاتمہ کر۔(بحوالہ عشرہ صفحہ ۹۵) ان فقرات سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بے کس اور بے بس (439)