تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 413 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 413

اور نشانات کے لحاظ سے اس مقام پر ہوتے ہیں کہ عوام کی ذہنیت کے پیش نظر اس بات کا غالب خطرہ ہوتا ہے کہ ان کو جامہ الوہیت پہنا دیا جائے گا۔اس کے انسداد کے لئے علاوہ دیگر ذرائع کے مصلحت الہی اس طور پر واقع ہوئی ہے کہ ان کی غیر مقابلہ کی بعض دعاؤں کو بھی ظاہر پر پورا نہیں کیا جاتا۔تا ان کی عبودیت مشتبہ ہو کر ان کو ذاتی طور پر صاحب اقتدار نہ یقین کیا جائے اس کی مثالیں سب نبیوں میں موجود ہیں۔بطور مثال عرض ہے کہ حضرت نوح نے اپنے بیٹے کی نجات کے لئے دعا کی اور وعدہ الہی یاد دلا کر کہا رَبِّ إِنَّ ابْني مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقِّ وَانْتَ أَحْكَمُ الْحَكِمِينَ ( بود رکوع ۴ ) مگر اللہ تعالیٰ نے اس بیٹے کو غرق ہونے سے نہیں بچایا بلکہ حضرت نوح سے کہا فَلا تَسْتَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أعِظُكَ أنْ تَكُونَ مِنَ الْجَهِلِينَ ( بود رکوع ۴) حضرت نوح کی دعا کے متعلق مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اپنے اخبار میں شائع کیا ہے :- غور سے دیکھو کہ نوح علیہ السلام کا لڑکا اُن کے سامنے پانی میں غرق ہو گیا۔جس کے بچاؤ کے لئے حضرت نوح نے خدا سے بھی دعا مانگی مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔اہلحدیث ۱۱ /اکتوبر ۱۹۱۲ ، صفحہ ۸ کالم ۲ ) خود معترض پٹیالوی نے لکھا ہے :۔حضرت نوح علیہ السلام نے لفظ اھل کے عام معنے سمجھ کر اپنے بیٹے کے بچائے جانے کی درخواست کی تھی لیکن اس کے اعمال غیر صالح ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے اُن کے اہل سے خارج فرما دیا۔( تحقیق لاثانی صفحہ ۱۶۱) اور تو اور سید الانبياء فخر المرسلين سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں :- إِنِّي سَأَلْتُ اللهَ فِيْهَا ثَلَاثَا فَاعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِيْ وَاحِدَةٌ ترجمہ۔میں نے اس نماز میں اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی تھیں۔اللہ تعالیٰ نے دو تو مجھے دے دیں اور ایک منع کر دی یعنی دود عا ئیں منظور ہو گئیں اور ایک ظاہری طور پر نا منظور “ جود عانا منظور ہوئی وہ بی تھی۔فرمایا :- کا کا (413)