تفہیماتِ ربانیّہ — Page 414
سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيُّهَا “ میں نے اللہ سے دعا کی کہ میری اُمت کے لوگ ایک دوسرے سے نبرد آزمانہ ہوں اللہ تعالیٰ نے اس کو نا منظور فرمایا۔( جامع ترمذی باب الفتن جلد ۲ صفحه ۴۰) اس حدیث کے بعد والی حدیث میں نا منظوری کی وجہ بایں الفاظ بیان فرماتے ہیں :- إِنَّ رَبِّي قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِلَى إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءَ فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ“ کہ میرے رب نے فرمایا۔اسے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں جب ایک قطعی ال مبرم فیصلہ کر لیتا ہوں تو وہ روڈ نہیں ہوسکتا۔“ صحیح مسلم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے حضور نے فرمایا :- اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَمِي فَلَمْ يَأْذَنْ لِي “ اور کہ میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ میں اپنی والدہ ماجدہ کے لئے استغفار کروں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت نہ دی۔“ (مسلم کتاب الجنائز جلد اول صفحه ۳۵۹ مطبوعہ مصر ) ترمذی شریف میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- لِكُلِّ نَبِي دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةٌ لِأُمَّتِي وَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا “ < (ترمذی جلد ۲ صفحه ۲۰۰) ترجمہ۔ہر نبی کی ضرور ہی ایک دُعا مقبول ہوتی ہے۔میں نے اپنی وہ دعا اپنی اُمت کی شفاعت کی خاطر مخفی رکھی ہے۔اور وہ دعا اگر اللہ نے چاہا تو ہر اُس شخص کے حق میں مقبول ہوگی جو شرک سے بکلی مجتنب ہوگا۔اس حدیث سے بھی بطور مفہوم مخالف ثابت ہے کہ نبی کی ہر دعا کا ظاہری صورت میں قبول ہونا ضروری نہیں۔چنانچہ لکھا ہے :- لِكُلِّ نَبِي دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ أَنْ مُجَابَةٌ البَتَةَ وَهُوَ عَلَى يَقِينٍ مِنْ إجَابَتِهَا وَبَقِيَّةُ دَعَوَاتِهِمْ عَلَى رَجَاءِ إِجَابَتِهَا “ (مجمع البحار جلد ا صفحه ۴۱۲) (414)