تفہیماتِ ربانیّہ — Page 412
جس شخص نے بذریعہ دعا آپ کی ہلاکت چاہی اور اس کو آپ کے کذب کی دلیل بتایا جیسا کہ جنگ بدر کے موقع پر ابو جہل نے بددعا کی تھی اللهمَّ مَنْ كَانَ مِنَّا كَاذِ بِأَ فَاحِنُهُ فِي هَذَا الْمَوْطَنِ تو وہ ضرور آپ کے سامنے ہلاک ہوا۔نصاریٰ نجران کے متعلق حضور نے فرمایا :- " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَنَّ الْهَلَاكَ قَدْ تَدَلَّى عَلَى أَهْلِ نَجْرَانَ لَوْلَا عَنْوا لَمُسِحُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ وَلَاضْطَرَمَ عَلَيْهِمُ الْوَادِى نَاراً وَلَاسْتَأْصَلَ اللهُ نَجْرَانَ وَأَهْلَهُ حَتَّى الطَّيْرَ عَلَى رُؤُوسِ الشَّجَرِ وَلَمَا حَالَ الْحَوْلُ عَلَى النَّصَارَى كُلِّهِمْ حَتَّى يُهْلَكُوا۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۲ صفحہ ۶۹۹) یعنی اگر یہ مباہلہ کرتے تو یقینا سال سے پہلے پہلے ہلاک ہو جاتے۔بہر حال یہ ایک ثابت شده صداقت ہے کہ مقابلہ صرف مقبولوں کی دعاسنی جاتی ہے۔اگر چہ عام اوقات میں ان کی بھی بعض دعا ئیں اس ظاہری صورت میں پوری نہیں ہوتیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرف فرمایا اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْة (المؤمن رکوع ۶) مگر ساتھ ہی بتادیا کہ تمہاری مطلو به صورت کو ہی پورا کرنا ضروری نہیں۔کفار کو مخاطب کر کے فرمایا فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ إِلَيْهِ اِنْ شَاءَ ـ الآية (الانعام رکوع ۴) تم مصیبت اور دکھ کے وقت صرف اللہ کو پکارتے ہو۔اور اگر وہ چاہے تو اس مصیبت کو دور کر دے مگر بعد میں پھر تم شرک میں مبتلا ہو جاتے ہو۔گویا انتہائی عاجزی کی دعا کا قبول کرنا بھی مشیت ایزدی کے ماتحت ہے۔مومنوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :- وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَراتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ (البقره رکوع ۱۹ ) کہ ہم ضرور خوف، بھوک، نقصان مال و جان اور اتلاف شمرات کے ذریعہ تمہاری آزمائش کریں گے صبر کرنے والوں کو بشارت دیدو۔ان آیات پر یکجائی نظر کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ جب کسی دعا میں دشمنوں سے مقابلہ ہوتا ہے تو ضرور صادقین کی دُعاسنی جاتی ہے اور جس طرح وہ چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ اسی طرح ظاہر فرماتا ہے۔مگر عام حالات میں ان کی بھی بعض دعاؤں کو بصورتِ ظاہر مستر دفرماتا ہے تا اہلِ دنیا پر ان کی خوئے تسلیم ورضا کا بھی اظہار ہو۔کیا نبی کی ہر دعا بعینہ منظور ہوتی ہے؟۔انبیائے کرام اپنے کار ہائے نمایاں (412)