تفہیماتِ ربانیّہ — Page 356
گئے۔بلکہ حضرت اقدس فرط محبت کے باعث بعض کشوف ذو المعنیین کی تعبیر صحت بھی فرماتے رہے مگر یہ غلط ، سراسر غلط، جھوٹ اور محض افتراء ہے کہ حضرت اقدس کو ایک یا دو الہام حضرت مولوی صاحب کی صحت کی بشارت پر مشتمل بھی ہوئے۔سلسلہ احمدیہ کا سارالٹریچر چھان مارو، تمام کتابیں پڑھ جاؤ ، سب اخبارات کی ورق گردانی کر لومگر ایک بھی ایسا الہام پیش نہ کر سکو گے جس میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کی صحت کی خبر دی گئی ہو۔اگر تم ایک الہام بھی الہامی الفاظ میں مبشر اور صحت کی خبر دینے والا ثابت کر دو تو یکصد روپیہ انعام حاصل کرو۔مگر یاد رکھو کہ تم ایسا ہر گز نہ کر سکو گے ولو كان بعضكم لبعض ظهیراً۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ ارشاد بالکل درست ہے کہ ایک الہام بھی اُن کے لئے تسلی بخش نہ تھا اور معترض کا یہ دعویٰ کہ دو الہام مشتمل بر صحت اور تسلی بخش تھے سراسر غلط اور نرا جھوٹ ہے لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ۔بھلا اتناہی غور فرمائیے کہ اگر ۱۰ ستمبر یا ۲۴ ستمبر کے الحکم میں تسلی بخش الہام درج تھا تو ۲۸ ستمبر کو غیر معمولی اہتمام سے جنگل میں جا کر دعا مانگنے کا حکم کیوں دیا تھا؟ معلوم ہوا کہ معترض پٹیالوی نے اس اعتراض کرنے میں بھی دیانتداری سے کام نہیں لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف طور پر تحریر فرمایا ہے :- سال گزشتہ میں یعنی ۱ ارا اکتوبر ۱۹۰۵ء کو ہمارے ایک مخلص دوست یعنی مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اسی بیماری کا ر بنکل یعنی سرطان سے فوت ہو گئے تھے۔ان کے لئے بھی میں نے بہت دعا کی تھی مگر ایک بھی الہام ان کے لئے تسلی بخش نہ تھا بلکہ بار بار یہ الہام ہوتے رہے کہ کفن میں لپیٹا گیا۔۴۷ برس کی عمر ـ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ إِنَّ الْمَنَايَا لَا تَطِيشُ سِهَامُهَا یعنی موتوں کے تیر خطا نہیں جاتے۔جب اس پر بھی دعا کی گئی تب الہام ہؤا يأيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا - یعنی لے الہام ۱۸ تمبر ۱۹۰۵ ء ملاحظہ ہو بدر جلد ۱ نمبر ۲۳ صفحه ۲ ، الهام ۲ ستمبر ۱۹۰۵ء مندرجہ بدر مذکور ۳، الهام ۹ ستمبر ۱۹۰۵ بو دیکھو الحکم جلد ۹ نمبر ۳۲ صفحہ ۳۔(مؤلف) (356)