تفہیماتِ ربانیّہ — Page 355
بہت دعا کی تھی مگر ایک الہام بھی ان کے لئے تسلی بخش نہ تھا۔‘ او پر بجائے ایک کے دو الہاموں کے حوالے درج کر دیئے گئے ہیں۔ان کے مقابلہ میں حقیقۃ الوحی کا بیان کتنا صاف جھوٹ ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۸۰) الجواب - معترض نے اخبار الحکم کے دو نمبروں کا حوالہ دیکر صحت کے دو الہاموں کا دعوی کیا ہے۔کیا ان مقامات پر کوئی الہام ایسا ہے جس میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی صحت کا ذکر ہو؟ معترض خود لکھتا ہے :- حکم ۱۰ رستمر ۱۹۰۵ ء صفحہ ۱۲ میں بھی مولوی صاحب ( حضرت مولا نا عبد الکریم رضی اللہ عنہ۔ناقل ) کی حالت اور اپنے متوحش الہامات کا ذکر کر کے الہام الہی کی بناء پر لکھتے ہیں کہ قضا و قدر تو ایسی ہی ( مولوی صاحب کی موت کی تھی۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل ورحم سے ر بلا کر دیا۔احکم ۲۴ ستمر ۱۹۰۵ء میں لکھا ہے کہ خود اعلحضرت (مرزا صاحب) کا بہت بڑا حصہ دعاؤں میں گزرتا ہے اور کالم ہے میں لکھا ہے کہ خدا کے مسیح کی دعائیں اس کے ساتھ ہیں اور اس کالم میں ۲۲ ستمبر کا ایک الہام بھی درج ہے جو دعا کے بعد ہوا۔طلع البدر علينا من ثنيات الوداع۔احکم ۳۰ ستمبر ۱۹۰۵ء۲۷ ستمبر کو جماعت کو نصیحت کی کہ کل جنگل میں جا کر مولوی صاحب کے لئے دعا کریں اور خود بھی ۲۸ کو صبح ہی باغ میں گئے اور کئی گھنٹہ تک تخلیہ میں دُعا کی۔عشر صفحہ ۹۲-۹۳) ہم نے مؤلّف عشرہ کے اپنے الفاظ او پر درج کر دیئے ہیں ان میں ایک بھی ایسا الہام یا اللہ تعالیٰ کے ایسے الفاظ وحی مذکور نہیں جنہیں مولوی صاحب کی صحت کی بشارت کہا جائے۔بلکہ مؤلف مذکور کے الفاظ میں ہی ۱۰ ستمبر کے احکم میں " متوحش الہامات کا ذکر ہے۔طلع البدر علينا کا حضرت مولوی صاحب کی صحت کی خبر سے کوئی علاقہ نظر نہیں آتا۔یہی وجہ تھی کہ ۲۸ ستمبر کوسب جماعت کو جنگل میں جا کر دعا کرنیکی نصیحت کی اور خود بھی عرصہ تک دعا فرماتے رہے۔مؤلف عشرہ کی منقولہ عبارت اس کے دعویٰ پر خود ایک زبر دست تبر ہے۔۔بے شک یہ درست ہے کہ حضرت مولوی صاحب کی صحت کے لئے بہت دُعا کی گئی ، علاج کئے ے عدم قبولیت دعا پر فصل ہشتم میں بحث کی جائے گی۔انشاء الہ تعالٰی : (مؤلف) (355)