تفہیماتِ ربانیّہ — Page 357
اے لوگو! تم اس خدا کی پرستش کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے یعنی اسی کو اپنے کاموں کا کارساز سمجھو اور اس پر توکل رکھو۔کیا تم دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو۔اس میں یہ اشارہ تھا کہ کسی کے وجود کو ایسا ضروری سمجھنا کہ اس کے مرنے سے نہایت درجہ کا حرج ہوگا ایک شرک ہے۔اور اس کی زندگی پر نہایت درجہ کا زور لگادینا ایک قسم کی پرستش ہے۔اس کے بعد میں خاموش ہو گیا اور سمجھ لیا کہ اس کی موت قطعی ہے۔چنانچہ وہ 11 اکتوبر ۱۹۰۵ ء کو بروز چارشنبہ بوقت عصر اس فانی دنیا سے گزر گئے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۲۶) ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کی گواہی معترض پٹیالوی نے اپنی کتاب میں ڈاکٹر عبد الحکیم صاحب کی کتاب سے بہت کچھ کاسہ لیسی کی ہے اسلئے بطور الزام خصم ہم اس بارہ میں کہ آیا کوئی الہام حضرت مولوی صاحب کی صحت پر مشتمل ہوا تھا ؟ ڈاکٹر عبد الحلیم کی شہادت پیش کرتے ہیں۔عبد الحکیم مرتد ہو چکا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسے جماعت سے خارج کر چکے ہیں۔مگر پھر بھی اس امر خاص کے متعلق اس نے لکھا ہے کہ :۔”مولوی عبد الکریم صاحب کے ایام مرض میں باوجود مخالف الہامات کے آپ بہت سے خوابات کو مبشر فرماتے رہے اور ان سے صحت وحیات کیطرف استدلال کرتے رہے۔مجھے کبھی ایک منٹ کے واسطے بھی صحت و حیات کا خیال نہیں ہوا۔بلکہ میں الحکم اور البدر میں وہ اقوال پڑھ کر صاف کہہ دیا کرتا تھا کہ ان میں کوئی مبشر خبر نہیں بلکہ آخری ناکامی اور مایوسی پر دلالت کرتے ہیں۔“ (الذكر الحکیم نمبر ۴ صفحه ۱۸) پھر اسی ڈاکٹر عبد الحکیم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جوابی خط میں سے حضور کے یہ الفاظ بھی شائع کئے ہیں :۔ہر ایک کو معلوم ہے کہ جو کچھ مولوی صاحب مرحوم کی نسبت الہام کے ذریعہ سے معلوم ہو اوہ ان کی موت تھی۔چنانچہ بار باران کے انجام (357)