تفہیماتِ ربانیّہ — Page 229
(الف) ”ہاں بلاد شام میں حضرت عیسی کی قبر کی پرستش اور مقررہ تاریخوں پر ہزار ہا عیسائی سال بال اس قبر پر جمع ہوتے ہیں۔سواس حدیث ( یعنی لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ انْبِيَاءِ هِمْ مَسَاجِدَ - رَواهُ الْبُخَارِی۔ابوالعطاء) سے ثابت ہوا کہ در حقیقت وہ قبر حضرت عیسی ہی کی قبر ہے۔جس میں مجروح ہونے کی حالت میں وہ رکھے گئے تھے۔“ (ست بیچن حاشیہ صفحہ ۱۶۲) (ب) اور ملک شام کی قبر زندہ درگور کا نمونہ تھا جس سے وہ نکل آئے۔“ ست بیچن حاشیه صفحه ۱۶۴) (ج) حضور نے ازالہ اوہام میں عیسائی اخبار نور افشاں مطبوعہ ۲۳ ۱٫ پریل کا اعتراض“ کے عنوان سے ایک مضمون تحریر فرمایا ہے جس کے ایک حصہ کو "لا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ “ کہنے والے کی طرح معترض پٹیالوی نے پیش کیا ہے اور لوگوں کو دھوکہ دینا چاہا ہے۔حضور نے نور افشاں کی دلیل یعنی کتاب اعمال کی چند آیات نقل کر کے صاف لکھا ہے کہ:۔اب پادری صاحب صرف اس عبارت پر خوش ہو کر سمجھ بیٹھے ہیں کہ در حقیقت اسی جسم خاکی کے ساتھ مسیح اپنے مرنے کے بعد آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔لیکن انہیں معلوم ہے کہ یہ بیان لوقا کا ہے جس نے نہ مسیح کو دیکھا اور نہ اُس کے شاگردوں سے کچھ سنا۔پھر ایسے شخص کا بیان کیونکر قابل اعتبار ہوسکتا ہے۔جو شہادت رویت نہیں اور نہ کسی دیکھنے والے کے نام کا اس میں حوالہ ہے۔ماسوا اس کے یہ بیان سراسر غلط نہی سے بھرا ہوا ہے۔یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا لیکن یہ ہر گز سچ نہیں کہ وہی جسم جود فن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔بلکہ اسی باب کی تیسری آیت ظاہر کر رہی ہے کہ بعد فوت ہو جانے کے کشفی طور پر مسیحی چالیس دن تک اپنے شاگردوں کو نظر آتا رہا۔اس جگہ کوئی یہ نہ سمجھ لیوے کہ مسیح بوجہ مصلوب ہونے کے فوت ہوا کیونکہ ہم ثابت کر آئے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے صلیب سے مسیح کی جان بچائی تھی۔بلکہ تیسری آیت باب اول اعمال کی مسیح کی طبعی موت کی گواہی دے رہی ہے جو تکلیل میں اس کو پیش آئی۔(229)