تفہیماتِ ربانیّہ — Page 152
ایل تحقیق وارباب احوال ، اگر چه بظاہر در هم نیاید، ومنکر نمایند، ووجوب توقف وسکوتِ تسلیم دراں، وتوجیه و تاویل و تطبیق آں بظاہر شریعت زیرا که ایشان را درال نیات و مقاصد است که از نظر عوام پنهان است (شرح فتوح الغیب صفحه ۳۹۰) یعنی اولیاء اللہ کی جو بعض باتیں تم کو خلاف شریعت نظر آئیں تمہارا فرض ہے کہ ان کے انکار میں جلدی نہ کرو اور حتی الوسع ان میں تطبیق دو۔بہت ممکن ہے کہ جس کو تم نے خلاف شریعت سمجھا ہو وہ شریعت کے مطابق ہو۔کیونکہ ان لوگوں کے پیش نظر ان کے ایسے مطالب ہوتے ہیں جہاں تک عوام کی رسائی نہیں ہوتی۔“ مختصر یہ ہے کہ معترض پٹیالوی نے جو اعتراضات ” خلاف شریعت“ کے عنوان کے نیچے ذکر کئے ہیں اس شریعت سے مراد محض اس کی اپنی خیالی شریعت ہے۔شریعت حقہ اسلامیہ ہرگز مراد نہیں۔(۱) عقیدہ ابنیت اب ہم معترض پٹیالوی کے تحریر کردہ نمبروں کے مطابق گفتگو کرتے ہیں۔معترض نے قرآن مجید کی آیات کا ذکر کر کے بیان کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی بیٹا نہیں۔اس کے بعد لکھتا ہے :۔" مرزا صاحب کو حسب ذیل الہام ہوتے ہیں۔انت منی بمنزلة ولدى (حقیقة الوحی صفحه ۸۶) اَنْتَ مِنِّي بِمَنْزَلَةِ أَوْلَادِئ (دافع البلاء صفحہ (۶) اسمع ولدى البشرى جلد ۱ صفحه ۴۹ ) ان ہر سہ الہامات میں مرزا صاحب نے ظاہر کیا ہے کہ اللہ نے ان کو ولد (بیٹا) کہہ کر مخاطب کیا ہے لیکن نص قرآنی اس لفظ کے قطعا خلاف ہے۔اگر مرزائی اس کو استعارہ و مجاز سمجھتے ہیں تو مرزا صاحب کم از کم سید نا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے استعاری یا مجازی معبود تو ثابت ہوئے جیسا کہ آیت قرآنی محولہ بالا ( قُلی ان كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ ) سے واضح ہے۔ایسا ہی مرزا صاحب توضیح مرام صفحہ ۵۰ پر لکھتے ہیں کہ مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو (152)