تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 807 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 807

تحریر سے ایک خاص روحانی رنگ ظاہر ہورہا تھا۔دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی اس تصنیف کو زیادہ سے زیادہ طالبان حق کے لئے مفید ثابت کرے۔آمین (۹) جناب مولانا محمد صادق صاحب فاضل مبلغ سماٹرا تحریر فرماتے ہیں :۔تفہیمات ربانیہ تصنیف لطیف مولانا ابوالعطا صاحب فاضل زادہ اللہ مجداً ورفعتہ ، میں نے اس کتاب کو شروع سے لیکر آخر تک پڑھا ہے۔یہ کتاب عشرہ کاملہ“ کے جواب میں لکھی گئی تھی، کتاب کی ضخامت کو دیکھ کر جو سینکڑوں صفحات پر مشتمل ہے۔ایک عام آدمی پہلے گھبراہٹ محسوس کرتا ہے لیکن جونہی وہ اس کا مطالعہ شروع کرتا ہے، اس کے پڑھنے کا شوق بڑھتا ہی چلا جاتا ہے کیونکہ اس کے الفاظ نہایت شستہ اور دلائل نہایت پختہ ہیں۔مولانا کی خداداد قابلیت اور ٹھوس علمیت کے سبب کتاب کی اتنی بڑی ضخامت کے باوجود کسی کو آپ کے قلم کی روکاوٹ اور دماغ کی تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوتا اور کوئی شخص اس کے مطالعہ کے وقت اپنی طبیعت کے اندر کسی قسم کی اُکتاہٹ اور ملال نہیں پاتا۔ایک سوال کے متعدد جواب جن میں سے اکثر تحقیقی اور بعض الزامی بھی ہیں ، اپنے تنوع کی وجہ سے دماغی تھکاوٹ کو دور کرتے جاتے ہیں۔بعض دفعہ نہیں بلکہ اکثر دفعہ اُردو زبان کے محاورات اور ضرب الامثال کا ذکر بشاشت کا باعث بن جاتا ہے۔چنانچہ جب میں یہ کتاب پڑھ رہا تھا۔تو ”لو مینڈ کی کو زکام ہوا۔“ کا محاورہ پڑھ کر میں بے اختیار ہنس پڑا۔پھر مناسب جگہ پر شعر بھی پیش کرتے ہیں جو روح انسانی کی تازگی کا ایک ذریعہ ہے۔مولانا کو خدائے تعالیٰ نے یہ ملکہ بھی بخشا ہے کہ وہ ان باتوں میں بھی ایک جدت پیدا کر دیتے ہیں جنہیں پہلے بار بار دہرایا گیا ہے۔مثلاً محمدی بیگم اور عبد اللہ آتھم والی پیش گوئی اور مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ گو ان پر پہلے بھی بہت کچھ لکھا جاچکا تھا لیکن آپ نے اس کتاب میں ان (807)