تفہیماتِ ربانیّہ — Page 808
پیشگوئیوں پر اس طریق سے بحث کی ہے جو نہایت ہی عام فہم ہے۔حتی کہ معمولی لیکھا پڑھا آدمی بھی اسے خوب سمجھ سکتا اور اس سے مطمئن ہو سکتا ہے۔پھر آپ کی ایک یہ بھی پسندیدہ عادت ہے کہ نئے نئے حوالجات پیش کرتے رہتے ہیں۔اور میرا تجربہ یہ ہے کہ آپ کے حوالجات نہایت صحیح ہوتے ہیں۔کم از کم و تفہیمات ربانیہ جیسی ضخیم کتاب میں مجھے کوئی غلط حوالہ نہیں ملا۔جس سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آپ اپنی تصانیف میں کوئی حوالہ خود ملاحظہ کئے بغیر درج نہیں کرتے۔الغرض تفہیمات ربانیہ ہر احمدی کیلئے ایک علمی خزانہ ہے اور ہر احمدی مجاہد کیلئے ایک مضبوط ڈھال بلکہ تیز ہتھیار ہے۔اور ہر حق کے متلاشی کیلئے قابل قدر نعمت ہے۔دُعا ہے کہ خدائے تعالیٰ مولانا المکرم کی عمر، صحت، اخلاص و علم میں زیادہ سے زیادہ برکت بخشے، تاکہ وہ ہمیشہ ہمیں ایسے مفید مواد سے مستفید فرماتے رہیں۔امین یا مرت العالمين" (۱۰) محترم جناب مولانا ظہور حسین صاحب فاضل سابق مبلغ بخارا تحریر فرماتے ہیں :۔دسکتاب تفہیمات ربانیہ مؤلفہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل ایک اہم تصنیف ہے جس میں قرآن کریم اور احادیث سے صداقت حضرت مسیح موعود علیہ وآلہ السلام پر سیر کن بحث کی گئی ہے۔اور غیر احمدی علماء کے تمام اعتراضات کے نہایت عمدگی سے محققانہ جوابات دیئے گئے ہیں اور اس تصنیف منیف کا ہر احمدی کے واسطے اپنے لئے اور بچوں کیلئے مطالعہ ضروری ہے۔اور جیسا کہ اس کتاب کا نام ہے ، ویسے ہی یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے بہت دلکش پیرائے میں لکھی گئی ہے۔اس کتاب کا مطالعہ کر کے ہر احمدی نوجوان بھی اطمینان اور نجرات کے ساتھ غیر احمدی علماء سے احمدیت کے متعلق تبادلہ خیالات کر سکتا ہے۔سو ا حباب کو چاہئے کہ وہ اس سے زیادہ سے زیادہ مستفیض ہو کر اپنے زیر اثر احباب کو اس سے مستفیض ہونے کی *** (808) *** تحریک کریں۔“