تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 806 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 806

نوٹوں میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر خادم صاحب کی خدمت میں پیش کی کہ حضور نے اس کا یہ جواب دیا ہے۔مجھے آج تک یاد ہے، کہ خادم صاحب مرحوم نے اسی میری کاپی سے حضور علیہ السلام کی عبارت پڑھ کر سنادی۔اور یہ میں نے تفہیمات سے ہی نوٹ لئے تھے۔جس کتاب کا جواب استاذی المحترم نے دیا تھا اس کتاب پر غیر احمدی حلقوں کو بڑا ناز تھا۔میرے ایک تایا سلسلہ کے بہت معاند تھے۔وہ یہ کتاب عشرہ کاملہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔تبلیغ سے دلچپسی رکھنے والے تمام دوستوں کو تفہیمات ربانیہ کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے اور اپنے پاس رکھنا چاہئے۔خدا کا شکر ہے کہ مولنا محترم اس نایاب کتاب کو دوبارہ احباب کے ہاتھوں میں دے رہے ہیں۔(۸) محترم جناب چوہدری عزیز احمد صاحب بی، اے نائب ناظر بیت المال تحریر فرماتے ہیں :- مجھے یہ معلوم کر کے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ آپ تفہیمات ربانیہ دوبارہ چھپوا ر ہے ہیں، اس کتاب کی افادیت کا مجھ پر گہرا اثر ہے۔جب میں ۱۹۳۷ء میں احمدی ہو ا تو میرے والد مرحوم کے ایک دوست جناب مولوی پیر محمد صاحب وکیل منگلوی نے مجھے عشرہ کاملہ مطالعہ کے لئے دی۔کچھ عرصہ قبل ایک رشتہ دار کے کہنے پر برنی صاحب کی تصنیف ”قادیانی مذہب“ پڑھ چکا تھا۔اور اس کتاب نے اس وجہ سے میری طبیعت منغص کر دی تھی کہ اس میں دلائل کے ساتھ جماعت احمدیہ کے عقائد کی تردید کرنے کی بجائے نہایت چالا کی اور شر پسند طریق پر حوالہ جات کو سیاق و سباق کی فضا سے الگ کر کے محض تمسخر اور استہزاء کا رنگ دے دیا گیا تھا۔لیکن عشرہ کاملہ کے مطالعہ سے مجھ پر یہ اثر ہوا کہ اس کتاب کے مصنف نے نسبتاً شرافت اور دیانتداری کے ساتھ جماعت احمدیہ کے عقائد کی تردید کی کوشش کی ہے، اس کتاب کا جواب تفہیمات ربانیہ میں مجھے جلد میسر آ گیا جس کو پڑھ کر میں بہت متاثر ہوا۔کیونکہ جواب نہایت سلیس اور عام فہم پیرا یہ میں تھا۔نہ صرف دلائل کے لحاظ سے جواب مسکت تھا، بلکہ (806)