تفہیماتِ ربانیّہ — Page 790
آپ کو اپنے مسلمات کے رُو سے بھی ماننا پڑے گا کہ بنی اسرائیل میں آنے والے انبیاء موسی اور ہارون کی تورات کے تابع تھے۔وہ کوئی نئی شریعت نہ لائے تھے، یہی غیر تشریعی نبی کہلاتے تھے۔پس یہ بنیا د قرآن مجید سے ثابت ہے۔(۳) پ۔رسول کا فریضہ ہی پیغام خداوندی کا پہنچانا ہوتا ہے۔بغیر پیغام کے قاصد اگر مضحکہ نہیں تو اور کیا ہے؟ (صفحہ ۸۰۷) پیغام تو ہر پیغامبر لاتا ہے مگر زیر بحث تو یہ امر ہے کہ وہ پیغام نئی شریعت پر چلنے کا ہوتا ہے یا سابقہ شریعت کی پابندی کرنے کا ہوتا ہے۔آپ خلط مبحث نہ کریں۔دیکھئے حضرت مسیح اپنے اتباع کو پیغام دیتے ہیں کہ :- فقیہ اور فریسی موسیٰ کی گڈی پر بیٹھے ہیں۔پس جو کچھ وہ تمہیں بتا ئیں وہ سب کرو اور مانولیکن اُن کے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں“ (متی ۲ / ۲۳) جناب مولانا محمد حنیف ندوی لکھتے ہیں :- ان ہزاروں انبیاء کے بارے میں کیا کہا جائے گا جنہیں سرے سے کسی کتاب سے بہرہ مند ہی نہیں کیا گیا بلکہ جن کی نبوت کا دارو مدار صرف ان کے اونچے کردار اور مصلحانہ عمل پر ہی استوار ہے اور جو صرف منذرین و مبشرین کے زمرہ میں شمار ہونے کے لائق ہیں کیا ان کو نبی تسلیم نہیں کیا جائے گا؟ (الاعتصام لاہور ۳۰ مارچ ۱۹۶۲ء) (۴) پ - " ذرا دجل و فریب کے اس لطیف پردے پر نگاہ رکھئے کہ اپنی نبوت کے جواز میں مسلمانوں کے جذبات کو کس طرح ہاتھ میں رکھا گیا ہے۔یعنی مسلمانوں سے کہا یہ گیا ہے کہ مرزا صاحب کی نبوت تو نبی اکرم کی عظمت کی دلیل ہے۔جو بات کسی اور نبی کو حاصل نہ تھی وہ رسول اللہ کو حاصل ہوگئی۔“ (صفحہ ۸۱۷) - پرویز صاحب اس حقیقت کو جسے قرآن نے آیت وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَبِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ والصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَبِكَ رَفِيقًا میں بیان فرمایا ہے آپ کا دجل و فریب کہنا خود انتہائی دجل ہے۔آپ دلیل و برہان سے بات کریں۔(۵) پ۔اگر نبی کی اطاعت سے انسان نبی بن سکتا ہے تو اس منطق کی رُو سے خدا کی اطاعت سے انسان کو کا کا (790)