تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 791 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 791

معاذ اللہ خدا بھی بن جانا چاہئے۔یہ تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ انسان خدا کی اطاعت سے خدا نہیں بن سکتا بلکہ وہ صرف اتنے مدارج ہی طے کر سکتا ہے جتنے مدارج کی قرآن کریم میں تصریح ہے۔اسی طرح نبی کی اطاعت سے بھی انسان نبی نہیں بن سکتا کہ نبوت تو ختم ہو گئی۔نبوت کے نیچے جتنے مقام ہیں جن کی تصریح قرآن نے بیان کر دی ہے ان مقامات تک ہی پہنچ سکتا ہے (صفحہ ۸۱۶) ) فقرة موت تو ختم ہوگئی زیر بحث اور تشریح طلب ہے اور آپ اسی کو دلیل بنارہے ہیں۔اسے علمی اصطلاح میں مصادر علی المطلوب کہتے ہیں یعنی دعوی ہی کو دلیل قرار دے دینا۔سوال تو یہی ہے کہ آیا قرآن مجید نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والوں کیلئے کن مدارج کی تصریح کی ہے۔جب ان میں من النبیین سب سے بلند درجہ ہے تو آپ نبوت غیر تشریعی کا انکار کیونکر کر سکتے ہیں۔پرویز صاحب نے کتنی عامیانہ بات کہہ دی ہے کہ اگر نبی کی اطاعت سے انسان نبی بن سکتا ہے تو خدا کی اطاعت سے انسان کو خدا بن جانا چاہئے۔ہم ہر نبی کی اطاعت سے نبی بننے کے قائل نہیں۔صرف خاتم النبیین کی اطاعت میں نبی بننے کے قائل ہیں۔جس طرح شہنشاہ کے ماتحت بادشاہ ہوتے ہیں۔ہاں آپ نبی کی اطاعت سے نبی بنے کا تو امکان نہیں سمجھتے البتہ نبی کی اطاعت سے نبوت سے نیچے کے درجوں تک پہنچنا مانتے ہیں۔اچھا سوچئے کہ اب خدا کی اطاعت سے خدا نہ سہی نبوت کے درجہ تک پہنچنے کا امکان تو آپ کی منطق سے بھی ثابت ہو جاتا ہے۔کیا فرماتے ہیں پرویز صاحب؟ (1) پ - قرآن بطور اساس آئین اور ملت کی مرکزیت اس کی قوت نافذہ۔اس کی موجودگی میں نبوت کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔“ (صفحہ ۸۰۳) تورات بنی اسرائیل کے لئے مفصل آئین تھی۔اگر یہودی موسی کے بعد آنے والے نبیوں کو ملت کی مرکزیت اس کی قوت نافذہ کہہ کر پوچھتے کہ آپ کے آنے کی ضرورت کیا ہے فرمائیے وہ انبیاء کیا جواب دیتے؟ چلئے مان لیتے ہیں کہ ملت کی مرکزیت جب آئین قرآنی کی قوت نافذہ ہو تو نبوت کی ضرورت نہ ہوگی مگر جب ملت کی مرکزیت ہی درہم برہم ہو چکی ہو یا نام نہاد مرکزیت تو ہو مگر وہ قرآن مجید کو نافذ نہ کر رہی ہو یا کر نہ سکتی ہو تو کیا آپ اس وقت نبوت کی ضرورت کو تسلیم کریں گے؟ بتلائیے اس وقت ملت کی مرکزیت قائم ہے اور وہ قرآن کیلئے قوت نافذہ ہے؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو آج آپ کو نبوت کی ضرورت سے کیوں انکار ہے؟ یادر ہے کہ آئین کو لانا، آئین کو نافذ کرنا، اسی کو اہلِ علم نبوت تشریعی (791۔