تفہیماتِ ربانیّہ — Page 789
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَيةَ فِيْهَا هُدًى وَنُوْرٌ ، يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّينِيُّونَ وَالْاَحْبَارُ يمَا اسْتَحْفِظُوا من كتب الله وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ : ( المائدة : ۴۴) کہ ہم نے تو رات کو نازل کیا اس میں ہدایت اور نور تھا۔تو رات کے مطابق وہ نبی جو مطیع ہوتے تھے یہود کیلئے فیصلہ کیا کرتے تھے۔ربانی اور علماء بھی فیصلہ کرتے تھے کیونکہ یہ کتاب الہی کے محافظ ٹھہرائے گئے تھے اور وہ اس کے نگران تھے۔اس آیت کریمہ میں تو رات کے مطابق فیصلہ کرنے والے نبیوں ، ربائی لوگوں اور علماء کمین گروہوں کا ذکر ہے۔النبیون کے ساتھ بطور تشریح الَّذِيْنَ أَسْلَمُوا فرمایا ہے ظاہر ہے کہ کوئی نبی غیر مسلم تو ہوتا نہیں اس لئے اس جگہ اَسْلَمُوا سے ان نبیوں کا تابع تورات ہونا ظاہر کرنا ہی مقصود ہے۔اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے وَلَقَدْ أَتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ (بقره : ۸۷) کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد ان کے پیرو بہت سے رسول بھیجے۔یہ مرسلین وہی ہیں جنہیں المائدہ کی آیت النبيون الذين اسلموا قرار دیا ہے۔پس معلوم ہوا کہ بہت سے انبیاء اپنی نئی شریعت نہیں لاتے تھے بلکہ وہ تو رات کی شریعت کے تابع ہوتے تھے اور لوگوں کو اسی پر چلاتے تھے۔اس آیت سے تشریعی اور غیر تشریعی نبی کی تقسیم صریح طور پر قرآنی ثابت ہوتی ہے۔جناب مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی نے تحریر فرمایا ہے :- یہ بات تو انبیاء میں سے کسی کسی کو میٹر آتی ہے کہ نئی شریعت لائے اور پہلے احکام بدل جائیں۔بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ کے بعد حضرت عیسی تک جتنے نبی ہوئے سب تو رات ہی پر عمل کرتے رہے۔( ہدیۃ الشیعہ صفحہ ۲۵) جناب پرویز صاحب نے لکھا ہے :- قرآن کا ارشاد ہے کہ تو رات حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں کو دی گئی تھی۔(معارف القرآن صفحہ ۸۰۸) چلئے مان لیجئے کہ تو رات دونوں، موسیٰ اور ہارون کو دی گئی تھی مگر النبيون الذين اسلموا جو تورات کے مطابق فیصلہ کرتے تھے ان کا غیر تشریعی نبی ہونا تو آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا۔اب تو (789)