تفہیماتِ ربانیّہ — Page 752
خاتم الكتب ( پیغام امام صفحه ۳۰ لیکچر ۱۹۰۵ء) (۲۴) مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے یہ ہم پر افتراء عظیم ہے۔ہم جس قوت، یقین و معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین رکھتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی وہ لوگ نہیں مانتے۔“ (الحکم ۷ار مارچ ۱۹۰۵ء) (۲۵) اب بجز محمد می نبوت کے سب نیو تیں بند ہیں۔شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔“ (تجلیات الہیہ صفحہ ۲۶ مطبوعه ۶۹) (۲۶) ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔“ حقیقة الوحی صفحه ۶۴ مطبوعه ۱۹۷ء) (۲۷) وان نبينا خاتم الانبياء ولا نبي بعده إلا الذي ينور بنورة ويكون ظهورها ظل ظهوره (الاستفتاء صفحه ۲۲ مطبوعه ۹۷ء) (۲۸) اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنایا۔یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی۔اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔(حقیقۃ الوحی صفحه ۹۷ حاشیه مطبوعه ۱۹۰۷ء) (۲۹) خدا اُس شخص سے پیار کرتا ہے جو اس کی کتاب قرآن شریف کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وو در حقیقت خاتم الانبیاء سمجھتا ہے۔“ (چشمہ معرفت صفحه ۳۲۴ مطبوعہ ۱۹۰۸ء) (۳۰) یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعوی کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی (752)