تفہیماتِ ربانیّہ — Page 751
مذکور ہیں جو اعلیٰ درجہ کے تو اتر پر ہیں، تازہ بتازہ صد ہانشان ایسے ظاہر فرمائے ہیں کہ کسی مخالف اور منکر کو ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔“ تریاق القلوب صفحه ۵ مجریه ۱۹۰۲ء) (۱۹) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد براہ راست فیوض نبوت منقطع ہو گئے اور اب کمال نبوت صرف اُس شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اعتبارع نبوی کی مہر رکھتا ہو گا۔اور اس طرح پر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا اور آپ کا وارث ہوگا۔“ ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی صفحہ ۷۶ مطبوعہ ۱۹۰۲ء) (۲۰) صرف اُس نبوت کا دروازہ بند ہے جو احکام شریعت جدیدہ ساتھ رکھتی ہو، یا ایسا دعوئی ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے الگ ہو کر دعویٰ کیا جائے۔لیکن ایسا شخص جو ایک طرف اس کو خدا تعالیٰ اس کی وحی میں انتی بھی قرار دیدیتا ہے ، پھر دوسری طرف اس کا نام نبی بھی رکھتا ہے یہ دعویٰ قرآن شریف کے احکام کے مخالف نہیں ہے کیونکہ یہ نبوت باعث امتی ہونے کے دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ایک ظل ہے کوئی مستقل نبوت نہیں۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۷۷ ۱۷۸) (۲۱) ” ہم مسلمان ہیں ، ایمان رکھتے ہیں خدا تعالیٰ کی کتاب فرقانِ حمید پر اور ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ مسلم خدا کے نبی اور اس کے رسول ہیں اور وہ سب دینوں سے بہتر دین لائے۔اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں۔(مواہب الرحمن صفحہ ۶۶ مطبوعہ ۱۹۰۳ء) (۲۲) پانچواں ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا ، یہی وہ ہزار ہے جس میں ہمارے سید و مولی ختمی پناہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے۔(لیکچر لا ہور صفحہ ۳۱ مطبوعہ ۱۹۰۳ء) (۲۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور قرآن شریف (751)