تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 753 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 753

پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعت اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں یہ الزام صحیح نہیں ہے بلکہ ایسا دعوی نبوت کا میرے نزدیک کفر ہے اور جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں وہ صرف اِس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہمکلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا ہے اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور انہی امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔۔۔ان معنوں سے میں نبی بھی ہوں اور امتی بھی تا کہ ہمارے سید و آقا کی وہ پیشگوئی پوری ہو کہ آنے والا مسیح امتی بھی ہوگا اور نبی بھی ہوگا۔ورنہ وہ حضرت عیسیٰ جن کے دوبارہ آنے کے بارے میں ایک جھوٹی اُمید اور جھوٹی طمع لوگوں کو دامنگیر ہے وہ امتی کیونکر بن سکتے ہیں۔کیا آسمان سے اُتر کر نئے سرے وہ مسلمان ہوں گے۔کیا اس وقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء نہیں رہیں گے؟“ ) مکتوب نوشته ۲۳ رمئی ۱۹۰۸ء مطبوعہ اختبار عام لاہور ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ء) آیت خاتم النبیین کا شان نزول اور معنی یادر ہے کہ لفظ خاتم النبیین سورۃ احزاب کی آیت ۴۰ میں وارد ہوا ہے۔ساری آیت یوں ہے۔مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيْنَ ، وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمان اس کا لفظی ترجمہ یوں ہے ”حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ رسول اللہ اور خاتم النبیین ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔" (753)