تفہیماتِ ربانیّہ — Page 647
بروز مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور مولوی ثناء اللہ بقول خود مثیل مسیلمہ۔هَلْ بَعُدَ هَذَا الْإِيْضَاحِ مَوْضِعَ شَكٍ كَلَّا! مولوی ثناء اللہ سا کی لمبی زندگی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اعجاز احمدی میں لکھا تھا :- اگر اس چینج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق سے پہلے مرجائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے۔( اعجاز احمدی صفحه ۳۷) ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ مباہلہ نہ کرنے کی صورت میں مولوی صاحب کا زندہ رہنا ہی مقدر تھا۔پس مباہلہ سے انکار کر کے بیچ رہنا بذات خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل ہے۔جیسا کہ حضور کے الفاظ ہمارے مخالف بھی ہمارے مرنے کے بعد زندہ رہیں گے۔“ الحكم ۱۰ را کتوبر۱۹۰۷ ء) میں بھی اشارہ تھا * ܀ علاوہ ازیں مولوی ثناء اللہ صاحب کے اپنے مسلمہ معیار کے مطابق بھی اُن کی زندگی اُن کو جھوٹا ثابت کرتی ہے۔اہلحدیث میں لکھا ہے :- قرآن تو کہتا ہے کہ بدکاروں کو خدا کی طرف سے مُہلت ملتی ہے۔سنو! مَنْ كَانَ فِي الضَّلَالَةِ فَلْيَمْدُ ذَلَهُ الرَّحْمَنُ مَداً ( پاره ۱۷ رکوع ۸) اور ا مَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا انما ( پاره ۴ رکوع ۹) اور وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ( پاره ارکوع ۲) وغیرہ آیات تمہارے اس دجل کی تکذیب کرتی ہیں۔اور سنو! بَلْ مَتَّعْنَا هَؤُلَاءِ وَابَاءَهُمْ حَتَّى طَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ ( پاره ۱۴ رکوع (۴) جن کے صاف یہی معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ مجھوٹے ، دغا باز ، مفسد اور نافرمان لوگوں کو لمبی عمر میں دیا کرتا ہے، تا کہ وہ اس مہلت میں اور بھی بُرے کام کرلیں۔( اہلحدیث ۲۶ ۱ اپریل ۱۹۰۷ صفحه ۴ حاشیه ) لے مولوی صاحب نے اپنے مضمون کے حاشیہ کے طور پر ان سطور کو نائب ایڈمیر کی طرف سے شائع کیا ہے۔اول تو یہ استدلال آیات قرآنیہ سے ہے۔دوسرے اس معیار کے متعلق مولوی صاحب لکھ چکے ہیں۔” میں اس کو صحیح جانتا ہوں (اہل حدیث ۳۱ جولائی ۱۹۰۸ ء ) لہذا یہ معیار مولوی صاحب کو مندرجہ بالا الفاظ کا مستحق ٹھہراتا ہے۔مولوی صاحب کہا کرتے ہیں کہ میں نے کہیں نہیں لکھا کہ حرامزادہ کی رسی دراز ہوتی ہے، لیکن الفاظ فوق اس سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ہمارے دوستوں کو یہ الفاظ پیش کرنے چاہئیں۔تا کہ مولوی صاحب کو گنجائش انکار نہ رہے۔(ابو العطاء) (647)