تفہیماتِ ربانیّہ — Page 648
خلاصہ کلام یہ کہ مولوی صاحب کی موجودہ زندگی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اور مولوی ثناء اللہ کی بطالت پر بین دلیل ہے۔لِيَهْلكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيْنَةٍ وَيَحْيَ مَنْ حَيَّ عَنْ بينة اس موقعہ پر ایک دوست نے کہا ہے ؎ کا ڈبوں کو عمر لمبی ملتی ہے تو نے لکھا ، کذب میں پکا تھا اپنے اس لئے زندہ رہا میں ثابت کر چکا ہوں کہ حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء کا اشتہار ۱۵ را پریل دُعائے مباہلہ تھا، یکطرفہ دُعانہ تھی۔اس لئے مولوی ثناء اللہ صاحب مباہلہ سے انکار کر کے بچ گئے۔اس جگہ میں طالبان حق کے سامنے ایک اور طریق فیصلہ پیش کرتا ہوں۔اور وہ یہ کہ مولوی ثناء اللہ صاحب گھلے اور واضح الفاظ میں ( حسب عادت گول مول الفاظ میں نہیں ) خدائے علیم و خبیر کو حاضر ناظر جان کر مندرجہ ذیل حلف اُٹھا ئیں۔یعنی :- 66 ”اے علیم خُدا میں تجھے حاضر ناظر جان کر تیرے نام کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے اشتہار ۱۵ را پریل ۱۹۰۷ ء بعنوان ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ کو بھی بھی ، نہ اب نہ اس سے پہلے، اشتہار مباہلہ اور دعائے مباہلہ نہیں سمجھا۔بلکہ میں ہمیشہ سے ہی اس کو یکطرفہ قطعی دُعا سمجھتا رہا ہوں۔جس میں میری منظوری یا عدم منظوری کا کوئی دخل نہ تھا۔اے شدید البطش اور ذ والانتقام خدا! اگر میں اس قسم میں جھوٹا ہوں اور حق کو چھپانے والا۔تو تو مجھے ایک سال کے اندر اندر سخت عذاب میں مبتلا کر۔آمین۔“ میں یقین رکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اس حلف کیلئے تیار نہ ہوں گے۔لیکن اگر وہ ایسا کرلیں اور سال بھر تک عذاب الہی کی گرفت سے بچ جائیں تو ہم مان لیں گے کہ بیشک انہوں نے اس اشتہار کو دعائے یکطرفہ ہی سمجھا تھا۔ورنہ اب تو جیسا کہ مندرجہ بالا حوالجات سے ظاہر ہے وہ صریح طور پر کذب بیانی اور مغالطہ دہی اختیار کر رہے ہیں اور اپنے سابقہ بیانات کے خلاف یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ اشتہار یکطرفہ دُعا تھی۔کیا مولوی صاحب اس حلف کیلئے ”جرات“ کریں گے؟ 1 طبع ثانی کے وقت اُن کی ناکام موت بھی واقع ہو چکی ہے جو خود احمدیت کی صداقت پر ایک دلیل ہے۔(مؤلف) ے مولوی صاحب نے زندگی بھر اس کی حجرات نہیں کی۔اب طبع دوم کے وقت تو وہ فوت ہو گئے ہیں۔(مؤلف) (648)