تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 646 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 646

نہیں " (۳) وہ اپنے اشتہار مباہلہ ۱/۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء میں چیخ اٹھا تھا کہ اہلحدیث نے میری عمارت کو ہلا دیا ہے۔“ (اہلحدیث ۱۹ ؍جون ۱۹۰۸ء) کیا اس قدر تصریح کے بعد بھی آج اس اشتہار کو اشتہار مباہلہ نہ مانناد یا نتداری کا خون کرنا بحث کرنا تم سے کیا حاصل اگر تم میں نہیں روح انصاف و خدا ترسی جو ہے دیں کا شعار دلیل دوازدہم۔اخبارا اہلحدیث میں اشتہار ۱/۱۵اپریل پر بہت کچھ لکھنے کے بعد مولوی صاحب بطور خلاصہ اپنا جواب بایں الفاظ لکھتے ہیں :۔" یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں، اور نہ کوئی دانا اِس کو منظور کر سکتا ہے۔(المحدیث ۲۶ را پریل ۱۹۰۷ء) یہ الفاظ گھلے طور پر اس بات کی دلیل ہیں کہ مولوی صاحب نے اسے دُعائے مباہلہ ہی سمجھا تھا۔اور اس کی نامنظوری کو ہی علامت دانائی قرار دیا تھا۔جیسا کہ پہلے کفار مباہلہ سے گریز کر کے دانائی کا ثبوت دے چکے ہیں۔کیونکہ مولوی صاحب اور اُن کے ”دانا قطعی طور پر جانتے ہیں کہ خدا کے برگزیدہ سے مباہلہ کرنے کے بعد کا ذب کی موت یقینی ہے۔چنانچہ حضرت امام فخر الدین رازی ایک پرانے ”دانا عبدالسمیع نصرانی کا قول نقل کرتے ہیں۔اس نے کہا کہ :- وَاللَّهِ مَا بَاهَلَ قَوْمُ نَبِيًّا قَطُّ فَعَاشَ كَبِيْرُهُمْ وَلَا نَبِتَ " صَغِيرُهُمْ یعنی بخدا کسی نبی سے کسی قوم نے مباہلہ نہیں کیا مگر اُن کے چھوٹے و بڑے تباہ ہو گئے۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۲ صفحہ ۴۶۴) بہر حال ان ایک درجن دلائل سے ثابت ہے کہ اشتہار ۱۵ را پریل ۱۹۰۷ ء دعائے مباہلہ کا اشتہار تھا۔اب چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے بالمقابل بددعا نہ کی، بلکہ مباہلہ کرنا منظور نہ کیا۔لہذا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پہلے وفات پانا اور مولوی ثناء اللہ کا زندہ رہ کر آخر نا کامی کی وفات پانا اگر کچھ ثابت کرتا ہے تو بس یہی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الـ السلام (646)