تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 600 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 600

اس صورت میں تم پر مصائب نازل ہوں گے۔جن کا نتیجہ تمہاری موت ہوگا۔پس تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مر جاؤ گے۔بلکہ تمہاری موت قریب ہے۔“ ( تحقیق لاثانی صفحه ۱۳) (۳) بحوالہ آئینہ کمالات اسلام پٹیالوی صاحب نے پیشگوئی کی تیسری جزء ان الفاظ میں نقل کی ہے : سوم۔پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی مرنا۔“ ( تحقیق صفحہ ۳۶) ان تینوں حوالجات میں احمد بیگ کی موت کو قریب عرصہ میں بتایا گیا ہے۔ہاں اگر وہ شوخیوں میں غیر معمولی اضافہ نہ کر لیتا، تو موجودہ حالت کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ اُس کو تین سال کی مہلت دی جاسکتی تھی۔پس یہ اعتراض بھی باطل ہے۔نکاح نہ ہونے پر اعتراض کا جواب ناظرین کرام! ہم ثابت کر آئے ہیں کہ محمدی بیگم کا حضرت کے نکاح میں آنا اسی صورت میں مقدر تھا جب دونوں موتیں واقع ہو جاتیں لیکن چونکہ سلطان محمد پر موت وارد نہ ہوئی ، اِس لئے موجودہ حالات میں نکاح کا اعتراض محض لغو ہے۔یہ کہنا کہ وہ نکاح آسمان پر پڑھا گیا، خدا نے پڑھا اس کا ظہور کیوں نہ ہوا؟ کیا خُدا کا نکاح کرنا ملاں کے نکاح سے بھی کمزور ہے؟ “ یہ سب اعتراض محض نادانی سے پیدا ہوتے ہیں، جبکہ اس نکاح کے وقوع و ظہور کے لئے ایک شرط تھی یعنے سلطان محمد کی موت۔اور یہ شرط تحقیق نہ ہوئی، تو پھر نکاح کس طرح ہو سکتا تھا۔دیکھئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:۔"إن الله زَوَّجَنِى مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ وَكُلْثُومَ أُخْتَ مُوسى وَامْرَأَةٌ فِرْعَوْنَ قَالَتْ هَنِياً لكَ يَا رَسُولَ اللهِ۔“ روایت طبرانی و حاکم ، دیکھو تفسیر فتح البیان جلدے صفحہ ۹۹) کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نکاح حضرت مریم۔کلثوم۔اور فرعون کی بیوی سے کر دیا ہے۔حضرت خدیجہ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ ! پھر آپ کو مبارک ہو۔“ معزز قارئین ! ہم اس حدیث کو بالکل حق سمجھتے ہیں۔مگر ظاہر ہے کہ باوجود ان الله (600)