تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 599 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 599

محمدی بیگم کے ” نکاح ثانی تک زندہ رہنامذکور ہے؟ کوئی لفظ ایسا موجود ہے؟ حاشا و کلا۔ہرگز نہیں۔شہادة القرآن ۲۲ ستمبر ۱۸۹۳ء کی تصنیف ہے جب کہ احمد بیگ مر چکا تھا۔حضرت اقدس نے اس جگہ پیشگوئی کو محض اس کے اجزاء کے لحاظ سے ذکر فرمایا ہے، نہ یہ کہ اُس وقت پیشگوئی کی تھی۔اصل پیشگوئی تو ۱۸۸ء میں کی گئی تھی۔پس پٹیالوی صاحب کا یہ صریح دھو کہ ہے۔ہم اسے چیلنج کرتے ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی تحریر سے ثابت کرے کہ احمد بیگ محمدی بیگم کے نکاح ثانی تک زندہ رہے گا۔لیکن وہ اور اس کے سب مددگار ایسا ہر گز ثابت نہیں کر سکتے۔حضرت نے تو نکاح کو ”بَعْدَ مَوْتِهَا “ (احمد بیگ اور سلطان محمد کی موت کے بعد ) قرار دیا ہے۔( تحقیق صفحہ ۴۵) سوظاہر ہے کہ احمد بیگ کی موت حضرت کے مجوزہ پروگرام کے مطابق واقع ہوئی ہے اور اس پر اعتراض کرنا بہت بڑی عباوت یا شقاوت کا نتیجہ ہے۔اس ضمن میں ایک سوال یہ بھی کیا گیا ہے کہ احمد بیگ کی موت سلطان محمد کے بعد ہونی چاہئے تھی۔کیونکہ سلطان محمد کے لئے عرصہ اڑھائی سال مقررتھا اور احمد بیگ کے لئے تین سال تحقیق صفحہ ۳۸ حاشیہ ) اس کا جواب یہ ہے کہ یہ میعاد میں انتہائی میعادیں ہیں۔ان کے اندر اندر جب بھی ان کی موت واقع ہو جائے ، پیشگوئی کے مطابق ہوگی۔جیسا کہ غُلِبَتِ الرُّومُ في أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ (الروم رکوع ۱) کی پیشگوئی کے لئے زیادہ سے زیادہ نو سال مقرر تھے۔باقی تین اور اڑھائی کا فرق اُس وقت قابل اعتراض ہوتا جب احمد بیگ کے لئے محض تین سال مقرر ہوتے۔مگر یہ غلط ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود نے احمد بیگ کی موت کے لئے انتہائی مدت بے شک تین سال فرمائی ہے۔مگر ساتھ ہی لکھا ہے :- (۱) '' تین سال کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہو جائے گا۔“ (اشتہار ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء) (۲) حضرت نے احمد بیگ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ : (599)