تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 601 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 601

زَوَجَنِي“ فرمانے کے ان نکاحوں کا ظہور اس دُنیا میں نہیں ہوا۔اور نہ ہوسکتا تھا۔کیونکہ وہ عورتیں فوت ہو چکی تھیں۔ہاں آخرت میں جب موت والی روک درمیان نہ ہو گی ، ان نکاحوں کا ظہور ہو جائے گا۔اسی طرح حضرت اقدس سے محمدی بیگم کے نکاح کے ظہور کیلئے ایک شرط تھی، یعنی سلطان محمد کی موت۔اور یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ جب تک یہ شرط پوری نہ ہوتی ، اور جب تک یہ روک دُور نہ ہوتی تو وہ حضرت کے نکاح میں نہ آسکتی تھی۔پس نکاح کا اعتراض غلط اور بے محل ہے۔مرزا سلطان محمد کی عدم موت کا جواب اس عظیم الشان پیشگوئی میں سے اگر کوئی حصہ دشمنوں کے اعتراض کا نشانہ بن سکتا ہے تو وہ صرف سلطان محمد کے نہ مرنے کا حصہ ہے۔بے شک یہ درست ہے کہ سلطان محمد نہیں مرا لیکن فقط نہ مرنا تو موجب اعتراض نہیں ہوسکتا۔جبکہ ظاہر ہے کہ یہ وعیدی پیشگوئی ہے۔اور پھر اس موت کیلئے عدم تو بہ کی شرط بھی موجود ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ ہے کہ یہ موت اس لئے ٹل گئی کہ ان لوگوں نے شرط سے فائدہ اُٹھایا۔چنانچہ حضور نے تحریر فرمایا ہے:۔(۱) احمد بیگ کے مرنے سے بڑا خوف اُس کے اقارب پر غالب آ گیا۔یہاں تک کہ بعض نے اُن میں سے میری طرف عجز و نیاز کے ساتھ خط بھی لکھے کہ دُعا کرو۔پس خدا نے اُن کے اس خوف اور اس قدر عجز و نیاز کی وجہ سے پیشگوئی کے وقوع میں تا خیر ڈال دی۔“ (حقیقت الوحی صفحہ ۱۸۷ نیز رسالہ الہامات مؤلفہ مولوی ثناء اللہ امرتسری صفحہ ۶۹) (۲) اس کا داماد جو اڑھائی سال کے اندر فوت نہ ہو ا تو اس کی یہی وجہ تھی جو اس عبرت انگیز واقعہ کے بعد ، جواحمد بیگ اُس کے خسر کی وفات تھی۔ایک شدید خوف اور حزن اُس کے دل پر وارد ہو گیا۔اور نہ صرف اُس کے دل پر بلکہ اُس کے تمام متعلقین کو اس خوف اور حزن نے گھیر لیا۔اور یہ بات ظاہر ہے کہ جب دو آدمیوں کی موت ایک ہی پیشگوئی میں بیان کی گئی ہو اور ایک ان میں سے میعاد کے اندر مر جائے تو وہ جو دوسرا باقی ہے اُس کی (601