تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 502 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 502

أُصِلَ أَصْلُهُ كَدَلَالَةِ الْكِتَابِ عَلَى أَصْلِيَّةِ السُّنَّةِ وَالْإِجْمَاعِ وَكَذَالِكَ الْقِيَاسُ الصَّحِيحُ فَكُلُّ مَا يُقْتَبَسُ مِنْ هَذِهِ الْأَصْوْلِ تَفْصِيْلًا فَهُوَ مَا خُوْذُ مِنْ كِتَابِ اللهِ تَأْصِيلًا۔“ ( فتح الباری جلد ۵ صفحه ۱۳۷) ترجمہ۔بعض احکام تفصیلاً قرآن مجید سے ماخوذ ہیں جیسے وضوء ، بعض صرف اصولا ماخوذ ہیں جیسے نماز۔اور بعض وہ ہیں جن کی اصلیت کو کتاب اللہ سے اخذ کیا گیا ہے جیسا کہ سنت اور اجماع یا قیاس صحیح۔ان ہر سہ طریق پر جو بات بھی مستنبط ہوگی وہ بلحاظ اصل قرآن مجید سے ہی ماخوذ قرار پائے گی۔“ وو اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ جو بات بذریعہ قیاس صحیح قرآن مجید سے ماخوذ ہو وہ بھی ”مین كِتَابِ اللہ “ کا ہی حکم رکھتی ہے۔اندریں صورت انا انزلناہ قریباً من القادیان کا اعتراض نہایت بے محل ہے۔مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے ایک مضمون ” بخاری مسلم کتاب اللہ میں داخل ہیں“ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔اس میں آنحضرت کے الفاظ "لا قُضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللہ “ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے :- "اس حدیث میں حضور علیہ السلام نے کتاب اللہ کے ساتھ فیصلہ کرنے پر حلف کی۔مگر حکم جو کیا وہ قرآن کا حکم نہیں ہے بلکہ حدیث کا ہے۔ثابت ہوا کہ زمانہ رسالت ہی میں کتاب اللہ بول کر شریعت اللہ بہر دو نوعے مراد لی جاتی تھی۔اہلحدیث ۴/اکتوبر ۱۹۲۹ صفحه ۳) اس قدر عمومیت کے پیش نظر معاندین کا یہ اعتراض نہایت ہی رکیک اور بودہ ہے۔(۳) قوله - ” جب آپ (حضرت مرزا صاحب) کی اسس روش (سخت الفاظی ) پر اعتراض ہوا تو جواب دیا کہ قرآن شریف میں بھی ایسی گندی گالیاں موجود ہیں۔حاشیہ صفحہ ۸۶-۸۷ ازالہ اوہام۔گویا مرزا صاحب اپنے طرز کلام کو خدا کا کلام سمجھتے ہیں۔“ (عشرہ صفحہ ۱۱) ا حوالہ بھی نہیں ہے۔(مؤلف) 502