تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 503 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 503

اقول - پٹیالوی صاحب نے اس اعتراض میں بھی خیانت سے کام لیا ہے۔حضرت اقدس نے جو کچھ ازالہ اوہام میں لکھا ہے وہ صرف اس قدر ہے۔فرمایا :- د میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے۔بڑے دھوکا کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقعہ کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں۔اور ان دونوں مختلف مفہوموں میں فرق کرنا نہیں جانتے۔دشنام اور سب اور شتم فقط اس مفہوم کا نام ہے جو خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے اور اگر ہر ایک سخت اور آزار دہ تقریر کو محض بوجہ اس کی مرارت اور تلخی اور ایذارسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کر سکتے ہیں تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پر ہے۔کیونکہ جو کچھ بچوں کی ذلت اور بت پرستوں کی حقارت اور ان کے بارہ میں لعنت ملامت کے سخت الفاظ قرآن شریف میں استعمال کئے گئے ہیں یہ ہرگز ایسے نہیں ہیں جن کے سننے سے بہت پرستوں کے دل خوش ہوئے ہوں۔بلکہ بلا شبہ ان الفاظ نے ان کے غصہ کی حالت کو بہت تحریک کی ہوگی۔کیا خدائے تعالیٰ کا کفار مکہ کو مخاطب کر کے یہ فرمانا کہ اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبْ جَهَنَّمَ معترض کے من گھڑت قاعدہ کے موافق گالی میں داخل نہیں ہے؟ کیا خدائے تعالیٰ کا قرآن شریف میں کفار کو شر البرية قرار دینا اور تمام رذیل اور پلید مخلوقات سے انہیں بدتر ظاہر کرنا یہ معترض کے خیال کی رُو سے دشنام دہی میں داخل نہ ہوگا؟“ (ازالہ اوہام صفحہ 4 طبع سوم ) پھر حضور نے اس مضمون ( دشنام اور امر واقعہ میں فرق) کے متعلق مزید وضاحت کے لئے آیت فَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْن الغ (سورۃ قلم) کے ماتحت رقم فرمایا ہے :۔(503