تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 501 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 501

کہلانے والوں نے بھی خیال کیا کہ اب اسلام چند دن کا مہمان ہے۔اور دشمنانِ اسلام نے ہر طرف سے حملے شروع کر دیئے تب اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ حفاظت کے ماتحت سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔مجھے خوب یاد ہے کہ ۱۹۲۷ء میں ( ہردوار ) گرو کل کانگڑی کی مذہبی کانفرنس پر ایک آریہ پنڈت نے میرے لیکچر کے بعد مجھے کہا کہ اگر احمد یہ جماعت نہ ہوتی تو ہم مسلمانوں کو کھا جاتے۔میں نے کہا یہی تو اسلام کی سچائی کا ثبوت ہے کہ جب آپ لوگوں نے ایسا خیال کیا تو جھٹ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ حفاظت کے مطابق اپنے مقدس بندے کو کھڑا کر دیا۔الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عین ضرورت کے وقت قرآن پاک کی حفاظت کے لئے کھڑا ہونا اسلام کی صداقت کا درخشندہ ثبوت ہے۔اے کاش ہمارے مخالف عقل سے کام لیں۔(۱) قوله - کشف کی حالت میں آپ کو إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قَرِيبًا مِنَ الْقَادِيَانِ بھی قرآن میں لکھا ہوا نظر آیا۔مگر قرآن اس تحریف سے ابھی پاک ہے۔66 (عشر صفحه ۱۱۱) اقول - (الف) جب آپ اس کو کشفی حالت کا ایک واقعہ مانتے ہیں تو تحریف کا سوال ہی کیا ہوا؟ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت کشف سونے کے کنگن اپنے ہاتھوں میں دیکھے تو کیا واقعی ظاہر میں آپ نے سونا پہن لیا تھا؟ یا آپ نے جنگ اُحد کے شہید صحابہ کو گائیوں کی شکل میں دیکھا ( مسلم باب الرؤیا) تو کیا وہ فی الواقع گا ئیں تھے؟ حضرت یوسف نے سورج چاند کو اپنے لئے سر بسجود دیکھا کیا فی الواقع انہوں نے سجدہ کیا ؟ ہرگز نہیں۔الغرض کشف کو ظاہر پر محمول کر کے اعتراض کرنا خود غلطی ہے۔(ب) قرآن مجید میں ہونے کا مفہوم سمجھنے کے لئے امام قرطبی کا قول ملاحظہ فرمائیے لکھا ہے :۔"إِنَّ مِنَ الْأَحْكَامِ مَا يُؤخَذُ تَفْصِيلُهُ مِنْ كِتَابِ اللهِ كَالْوُضُوءِ وَمِنْهَا مَا يُؤْخَذُ تَأْصِيْلُهُ دُونَ تَفْصِيْلِهِ كَالصَّلَوَةِ وَمِنْهَا مَا (501)