تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 490 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 490

(الف) أَمَّا الْقَوْلُ بِاَنَّ الْكَوَاكِبَ أَشبَابٌ وَعَلَامَاتُ بِتَسْخِيْرِ الْوَاجِبِ تَعَالَى فَلَا كُفْرٌ بَلْ قَدِ اعْتَرَفَ بِهِ الْمُحَقِّقُونَ كَالْاِمَامِ الْغَزَالِي وَصَاحِبِ الْفُتُؤْحَاتِ یعنی یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی تسخیر کے ماتحت ستارے اسباب و علامات ہیں ہرگز کفر نہیں بلکہ یہ وہ بات ہے جس کا محققین نے اعتراف کیا ہے جن میں امام غزالی اور فتوحات کے مصنف بھی ہیں۔“ ( نبراس مطبوعہ میرٹھ صفحہ ۱۹۲) (ب) " قَدْ صَرَّحَ الشَّيْخُ الاَكْبَرُ فِي الفتوحاتِ فِي مَوَاضِعَ كَثِيرَةٍ بِأَنَّ حَرَكَاتِ الْأَفْلَاكِ وَالْكَوَاكِبِ وَأَوْضَاعَهَا مُؤَثِرَاتٌ أَوْ عَلَامَاتُ بِأَذْنِ الْحَقِّ سُبْحَانَهُ فِي الْعَنَاصِرِ وَقَالَ لَوْ عَرَفَ الْجُهَّالُ الْمُنكِرُونَ لِهَذَا الْعِلْمِ قَوْلَهُ تَعَالَى وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِهِ لَمَا قَالُوْا شَيْئًا مِمَّا قَالُوهُ اللَّ“ ترجمہ - فتوحات مکیہ کے متعدد مقامات پر شیخ اکبر محی الدین ابن العربی نے تصریح فرمائی ہے کہ آسمانوں اور ستاروں کی حرکات اور ان کی وضع کی ضرور تا ثیر ہے اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے یہ عناصر میں مؤثر ہیں۔اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر اس علم کے جاہل منکروں کو اللہ تعالیٰ کے قول و النُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِہ کا علم ہوتا تو وہ ایسے اعتراض نہ کرتے۔“ ( حاشیہ نبر اس صفحہ ۴۲۸) ناظرین کرام ! ان بیانات سے ظاہر ہے کہ محقق مسلمان ستاروں کی بحکم الہی تاثیر کے قائل ہیں اور فرشتوں کو باذن الہبی مد تبر مانتے ہیں۔اللہ غور فرما دیں کہ کیا یہ وہی بات نہیں جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر کیا اور معترض پٹیالوی اسس پر اعتراض کر رہا ہے؟ اتقوا الله ! اتقوا الله !! افسوسناک دھوکا۔اگر چہ صداقت کے دشمن ہمیشہ ہی غلط بیانی ، دروغ بافی اور مغاطہ دہی سے کام لیتے رہے ہیں۔فرمایا يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا له مؤلف عشرہ غور سے پڑھیں۔(ابوالعطاء) (490)