تفہیماتِ ربانیّہ — Page 489
وجود تو مشرق و مغرب میں پھیلا ہوا ہے اور اُن کے بازو آسمانوں کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہیں۔پھر وہ مکہ یا مدینہ میں کیونکر سما سکتے تھے؟“ ( دافع الوساوس صفحہ ۱۲۲) الغرض مؤلّف عشرہ نے اس فقرہ میں بھی جس بات کو حضرت سے منسوب کیا ہے وہ غلط ہے۔حضرت کا مذہب یہی ہے کہ ملائکہ موجود ہیں، ان کے روحانی وجود ہیں، کبھی کبھی بطور تمثل وہ دنیا میں بھی ظاہر ہو جاتے ہیں۔وہ ستاروں وغیرہ پر اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت مدیر ہیں۔هَذَا هُوَ الْحَقُّ الَّذِي فِيْهِ يَمْتَرُونَ۔اہلسنت والجماعت کے نزدیک ملائک اور تاثیر نجوم ملائکہ کے متعلق محققین اہلسنت کا وہی مذہب ہے جو حضرت مسیح موعود نے ذکر فرمایا ہے۔سورۃ والنازعات کی آیت وَالْمُدَ برَاتِ آمرا کے متعلق تمام مفسرین کا اجماع ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں۔کمالین میں لکھا ہے :- " لَمْ يَخْتَلِفِ السَّلَفُ فِي هَذَا الْآخِيرِ ( يعني وَالْمُدَبَّرَاتِ آمراً ) أَنَّ الْمُرَادَ بِهَا الْمَلَائِكَةُ۔“ ( حاشیہ جلالین مجتبائی صفحہ ۲۸۶) گویا یہ تسلیم کر لیا کہ ملائکہ مد برات ہیں۔ہاں جس طرح حضرت نے وضاحت فرمائی ہے کہ ان کا مدبر ہونا حکم الہی ہے اس حاشیہ پر بھی لکھا ہے :۔"إِنَّ إِسْنَادَ التَّدْ بِيْرِ إِلَى الْمَلَائِكَةِ مَجَازُ وَالْمُدَبِّرُ حَقِيقَةً هُوَ اللهُ تَعَالَى فَهُمْ أَسْبَابُ عَادِيَةٌ مَظْهرُ لِلتّد بیر۔“ ( حوالہ مذکور ) یعنی فرشتوں کا مدبر ہونا مجاز ہے کیونکہ حقیقی مد بر تو محض اللہ تعالیٰ ہے، فرشتے تو تد بیر کا مظہر اور اسباب ہیں۔“ تمام تفاسیر اس مضمون پر متفق ہیں۔اہلسنت و الجماعت کی مشہور کتاب نبراس میں بھی لکھا ہے :۔لہ بخاری میں ہے انّه رأى جبريل له سث مائة جناح جبرائیل کے چھ سو پر ہیں۔489 ( بخاری ذکر الملائکہ جلد ۲ صفحه ۱۳۴)