تفہیماتِ ربانیّہ — Page 491
نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ لیکن معترض پٹیالوی کے جس دھوکا کا ہم اس جگہ ذکر کرنا چاہتے ہیں وہ نہایت ہی شرمناک ہے۔پہلے یہود نے تحریف سے کام لیا اور وہ راندہ درگاہ الوہیت ہو گئے۔آسمانی نوشتوں کے ماتحت مقدر تھا کہ اُمتِ مرحومہ کے بعض افراد بھی اپنی بد عملی کی وجہ سے اس لعنت سے حصہ لیں گے۔رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس سے ڈرایا تھا لیکن آہ! یہ قوم اس مرض میں مبتلا ہو ہی گئی۔شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رقمطراز ہیں :۔(الف) بالجملہ اگر نمونہ یہود خواہی کہ بینی علماء سوء که طالب دنیا باشند الله ( الفوز الكبير صفحه (۱۰) (ب) "حکم حدیث صحیح لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ازیں آفات بیچ چیز نیست، مگر امروز قومی مرتکب آئند و معتقد مثل آں۔“ (الفوز الکبیر صفحہ ۶) مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اپنے تجربہ کی بناء پر خاص اہلحدیث علماء کے متعلق کھا ہے :- قرآن مجید میں یہودیوں کی مذمت کی گئی ہے کہ کچھ حصہ کتاب کا مانتے ہیں اور کچھ نہیں مانتے۔افسوس ہے کہ آج ہم اہلحدیثوں میں بالخصوص یہ عیب پایا جاتا ہے۔" المحدیث ۱۹ را پریل ۱۹۰۷ء صفحه ۹) یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ کے مصلح اعظم نے ان لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا سے چوں شمار اشد یہود اندر کتاب پاک نام پس خدا عیسی مرا کرد است از بهر یهود منشی محمد یعقوب صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک سراسر غلط الزام بایں الفاظ لگایا ہے :- وو مرزا صاحب آنجہانی نے اپنی نام نہاد تحقیقات کے ڈھکوسلوں کے سامنے تعلیم قرآن شریف اور تعلیم دین کو کیسا عاجز خیال کیا ہے کہ بلاشرط ہتھیار ڈال کر دینی کامیابی سے ہی منکر ہو گئے۔“ (عشرہ حاشیہ صفحہ ۱۰۸) پھر اپنے اس دعوی کے ثبوت میں لکھتا ہے :- مرزا صاحب دینی تعلیم کی کامیابی سے ان لفظوں میں انکار بھی فرما چکے (491)